`اگر مجھے کوئی بائیک پر کٹ مار کر جاتا ہے

0
385


اگر آپ صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں رہتے ہیں تو آپ نے کبھی نہ کبھی لال سکوٹی پر سوار ایک لڑکی کو ضرور دیکھا ہو گا۔ اس سکوٹی کی ڈرائیور عروج فاطمہ ہیں۔
جب میں پہلی دفعہ عروج سے ملی تو میں نے سوچا یہ چھوٹی سی پونی والی کم عمر لڑکی یقیناً کسی کالج میں پڑھتی ہو گی لیکن ملنے پر معلوم ہوا کہ زندگی کو جتنے قریب سے عروج نے دیکھا ہے، ان کا چہرہ اس کی عکاسی نہیں کرتا۔ شوہر سے علیحدگی کے بعد عروج نے محد کی ذمہ داری اکیلے اٹھائی، تو محسوس کیا کہ تیز رفتار زندگی میں اگر جاب کے ساتھ محد کو بھی وقت دینا ہے تو سفر کے لیے سکوٹی کا چناؤ کرنا ہو گا۔
`سکوٹی کی وجہ سے میں بہت ساری چیزوں میں وقت بچا پاتی ہوں۔ میں سیلز کی جاب کرتی ہوں تو کلائنٹ کے پاس اگر گاڑی پر جاؤں اور واپس آؤں تو تب تک میرے پاس اتنا ٹائم ہی نہیں بچتا کہ اپنے بیٹے کو مارکیٹ یا فٹبال کلب لے جا سکوں۔ لاہور کی ٹریفک، یہ بسیں، گاڑیاں، زیر تعمیر سڑکیں، ان سب کے جھمیلوں میں آپ کی فیملی اور نوکری کا تو بس خدا حافظ ہے۔ ایسے میں موٹرسائیکل یا سکوٹی ہی بہترین آپشن تھا۔ عروج کا کہنا ہے کہ سکوٹی ان کے لیے خود مختاری اور آزادی کی علامت ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ ابھی سے اپنے بیٹے محد کی ایسی پرورش کریں کہ وہ نقل و حرکت اور چیزیوں کی افادیت کو صنف یا جنس سے نہ جوڑے۔
`میرے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے کہ کل کو میرا بیٹا یہ نہ کہے کہ میرے ابو ہوتے تو وہ مجھے بائیک پر لے کر جاتے۔ تو آخر باپ ہی کیوں؟ جب مائیں گاڑی میں بچوں کو لے جا سکتی ہیں تو ماں بائیک پر بھی لے جا سکتی ہے۔ ماں سب کچھ کر سکتی ہے۔‘
’میں نے تہیہ کر لیا کہ میں اسے ایک اچھی اور خود مختار ماں بن کر دکھاتی ہوں تاکہ محد زندگی میں کبھی مجھے یا کسی بھی لڑکی کو دیکھ کر یہ نہ سوچے کی لڑکیاں یہ کام نہیں کر سکتیں۔‘
چار سالہ محد اپنی امی کے ساتھ سکوٹی پر بیٹھ کر خوش ہوتا ہے یا ڈرتا ہے، اس کا جواب عروج نے کچھ یوں دیا۔ ’محد سکوٹی پر بیٹھ کر بہت خوش ہوتا ہے، بہت کودتا ہے اور اسے کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دراصل جب میں نے یہ سکوٹی خریدی تو انھی دنوں محد کو بھی تین پہیوں والی سکوٹی لے کر دی، تو ہم دونوں مل کر ہنستے تھے کہ ہم دونوں کے پاس اب سکوٹی آ گئی ہے۔‘
پاکستانی معاشرے میں اور خصوصا لاہور جیسے تیز رفتار شہر میں ایک لڑکی کے لیے سکوٹر چلانا چیلنج تو ہے لیکن عروج کہتی ہیں کہ ’لوگ آپ کے چہرے کو پڑھتے ہیں، اگر چہرے پر خوف ہے تو وہ آپ کو ڈرائیں گے ورنہ عزت سے راستہ دیں گے۔‘ان کا کہنا ہے کہ `اگر مجھے کوئی بائیک پر کٹ مار کر جاتا ہے تو میں کہتی ہوں بھائی پہلے آپ چلے جائیں۔‘شکریہ بی بی سی اردو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here