حقانی کے خلاف لاکھوں ڈالر خوردبرد جعل سازی کا مقدمہ درج۔

0
704

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سابقہ دور حکومت میں امریکہ میں تعینات پاکستان کے سفیر حسین حقانی کے خلاف لاکھوں ڈالر کے خفیہ فنڈز میں مبینہ طور پر خوردبرد سے متعلق جعل سازی کا مقدمہ درج کیا ہے۔
یہ مقدمہ ضابطہ فوجداری کی دفعات 109 اور 420 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ ان میں سے دفعہ 109 قابل ضمانت نہیں ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزادا ملک کے مطابق حسین حقانی کے خلاف مقدمہ ایف آئی اے کے سربراہ کے حکم پر درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے حکام نے وزارت خارجہ کے توسط سے امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے سے اس دور کا ریکارڈ طلب کیا ہے جب حسین حقانی امریکہ میں بطور پاکستانی سفیر اپنے فرائص سرانجام دے رہے تھے۔
اس کے علاوہ وزارت خزانہ سے بھی اس رقم کی تفصیلات مانگی گئی ہیں جو سیکرٹ فنڈز کی مدد میں فراہم کی گئی تھیں اور یہ رقم سفیر کے صوابدیدی اختیار میں تھی۔
نامہ نگار کے مطابق اس سے پہلے میمو گیٹ سکینڈل سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے حکم پر ایف آئی اے نے ملزم حسین حقانی کو وطن واپس لانے کے لیے انٹروپول کو خط لکھا تھا۔ ایف آئی اے کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ انٹروپول نے ایف آئی اے کی طرف سے لکھے گئے خط پر کوئی موثر جواب نہیں دیا۔
حسین حقانی سپریم کورٹ کو یہ یقین دہانی کروا کر بیرون ملک گئے تھے کہ اگر عدالت بلائے گی تو وہ چار دن کے نوٹس پر وطن واپس آجائیں گے۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے ایک بینچ نے متعدد بار ایف آئی اے کے حکام سے پوچھا ہے کہ اُنھوں نے حسین حقانی کو امریکہ سے وطن واپس لانے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں واضح رہے کہ القائدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں ہلاکت کے بعد اس وقت امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے امریکی فوجی حکام کو خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ اس واقعے کے بعد پاکستانی فوج کے اعلیٰ حکام کو سویلین حکومت کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی سے روکنے کے لیے اپنا اثرورسوح استمال کرے۔
اس واقعے کے بعد حسین حقانی کو وطن واپس بلا کر ان سے استعفیٰ لیا گیا تھا اور وہ پاکستان میں جتنا عرصہ بھی رہے انھیں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دور میں وزیر اعظم ہاؤس میں رکھا گیا تھا۔
اس وقت کے بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں قائم ہونے والے تین رکنی کمیشن نے میمو گیٹ کو ایک حقیقت قرار دیا تھا اور حسین حقانی کو اس کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔
حسین حقانی کی طرف سے یہ بیان بھی سامنے آچکا ہے کہ وہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پاکستان واپس نہیں جانا چاہتے۔ شکریہ بی بی سی اردو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here