خود کوسمندر کا بیٹا کہنے والا

0
516


عمر کی سیاہ جلد واضح طور سورج کی تپش برداشت کرتی اور ان کے محنت کش ہاتھ لکڑی کی طرح سخت ہو چکے ہیں، مگر ان میں حرکت سمندر سے آتی ٹھنڈی ہوا کی طرح خوشگوار اور حسین ہے۔
دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں واقع ایک گاؤں میں پیدا ہونے کی وجہ سے عمر کو سمندر کے بغیر کسی قسم کی زندگی کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔ بہت سے مچھیروں کی طرح وہ خود کو سمندر کا بیٹا کہتا ہے۔ مگر پانی کی بڑھتی ہوئی سطح کی وجہ سے اسے ترشیاں کریک میں اپنا آبائی گاؤں چھوڑ کر کراچی منتقل ہونا پڑا۔
عمر کا کہنا ہے کہ ’ترشیاں میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے اور گاؤں چھوٹا ہوتے ہوتے جزیرہ بن گیا ہے۔ ہمارے مکان زیادہ تر وقت زیرِ آب رہتے ہیں۔ وہ مقام اب قابلِ رہائش نہیں ہے۔ ہم جال نہیں بُن سکتے، کھانا نہیں بنا سکتے۔ جب ہمارے بچے نمکین پانی میں کھیلتے ہیں تو انھیں بیماریاں لگتی ہیں۔‘
گذشتہ سال عمر ترشیاں چھوڑ کر ریڑھی گوٹھ منتقل ہو گئے۔ شکریہ بی بی سی اردو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here