خون کے آخری قطرے تک قوم کےلئے لڑوں گا،عمران خان

0
614


تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ خون کے آخری قطرے تک قوم کےلئے لڑوں گا،آج 11 نکات پیش کروں جو نیا پاکستان بنائیں گے ۔
مینار پاکستان پر جلسے سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ میں نے آج نعرے نہیں لگوانے ،کارکن اپنے کپتان جتنے صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں ۔
ان کا کہناتھاکہ پاکستان کے عوام کو جب بھی پکارا انہوں نے میری بات سنی ،مجھے پیسے بھی دیے اور میری دعوت پر جلسوں میں بھی آئے ،میں مختلف شہروں سے آنے والوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
عمران خان نے جلسے کے شرکاء سے کہا کہ وہ خود سے سوال کریں کہ پاکستان کیوں بناتھا؟اور ساتھ ہی بتایا کہ موجودہ پاکستان ویسا نہیں جیسا قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال چاہتے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ قائداعظم کی سوچ تھی کہ پاکستان کوریاست مدینہ کی طرز پر بنایا جائے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی بنیاد انصاف پر رکھی تھی ،بانی پاکستان چاہتے تھے کہ سب پاکستانی برابر کے شہری ہوں ۔
پی ٹی آئی چیئرمین کا کہناتھاکہ جب غریب اور طاقتور کےلئے الگ قانون ہوتو قومیں برباد ہوجاتی ہیں، 1990ء میں پاکستان تیزی سے ترقی کرنے والے ملکوں میں شامل تھا ۔
انہوں نے کہا کہ2008ء سے پہلے یعنیٰ 60 سال کی تاریخ میں پاکستان نے 6ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا تھا جو 2013ء تک 13ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا۔
عمران خان نے مزید کہاکہ 2013ء سے 2018ء تک 27 ہزار ارب تک قرضہ پہنچ گیا ہے، ہم تباہی کی طرف جارہے ہیں، ہم قرضے واپس کرنے کے لیے قرضے لے رہے ہیں، مہنگائی کرکے یہ قرضہ پاکستانیوں سے لیا جائے گا۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے یہ بھی کہا کہ مقروض ملک آزادی کھوبیٹھتا ہے، قرض دینے والا ملک آپ کو حکم دیتا ہے، فتح کیے بغیر وہ ملک آپ کو غلام بنادیتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا میں نائیجریا کے بعد پاکستان وہ ملک ہے جہاں سے سب سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں،آسٹریلیا کی کل آبادی سے زائد بچے ہیں جو تعلیم سے دور ہیں۔
اس دوران عمران خان نے شوکت خانم کینسر اسپتال،نمل یونیورسٹی اور تحریک انصاف کےلئے سیاسی جدوجہد کے مراحل پر گفتگو کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ کہتی ہے میں لاڈلہ ہوں ہاں میں اپنی ماں لاڈلہ ہوں ،جب میری والدہ کینسر کی مریضہ بنیں تو مجھے پتا چلا کہ پورے پاکستان میں کینسر کا کوئی اسپتال نہیں ،اس دوران میں شوکت خانم اسپتال ہوتا تو میری ماں کا علاج یہاں ہوجاتا ،مجھے اپنی والدہ کو انگلینڈ لے جانا پڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ والدہ کے علاج کے دوران ایک غریب مزدور کو اپنے بھائی کا کینسر کا علاج کراتے دیکھ کر فیصلہ کیا کہ غریبوں کےلئے کینسر کا اسپتال بنائوں گا جہاں غریبوں کا مفت علاج ہوگا،جس کے بعد دنیا بھر میں پاکستانیوں سے فنڈز جمع کئے ۔بشکریہ روزنامہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here