دنیا کا سب سے بڑا طیارہ پرواز کے لیے تیار

0
492

اگلے چند ماہ میں ہوا بازی کی تاریخ میں دنیا کا سب سے بڑا طیارہ اپنی پہلی پر واز پر روانہ ہو گا ۔ماہرین کے مطابق اس طیارے کے دو کا ک پٹ ہیں ،جب کہ 6 انجنوں کی وجہ سے یہ اب تک کا طاقت ور طیارہ بھی ہے ۔اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس کاایک ونگ (پر) فٹ بال گر ائونڈ کی لمبائی سے بھی زیادہ ہے اور اس میں ٹیک آف اور لینڈنگ کے لیے 28 پہیے نصب کیے گئے ہیں ۔ طیارے میں نصب ہونے والے جیٹ انجن عام طور پر 747جمبو جیٹ میں استعمال کئے جاتے ہیں۔یہ انجن سٹیلائٹس اور خلا نوردوں کو زمین کے اوپری کرہ ہوائی تک پہنچانے کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں جہاں سے انہیں خلا میں چھوڑا جاتا ہے۔کوراڈو میں منعقدہ 34 ویں خلائی سمپوزیم میں دنیا کے سب سے بڑے طیارے ’’اسٹار ٹو لانچ ‘‘ کے بارے میں توقع کا اظہار کیا گیا ۔یہ قوی الجثہ طیارہ موسم گر ما میں پہلی پرواز پر روانہ ہوگا ۔کمپنی کے مطابق چند ماہ قبل طیارے نے رن وے پر دوڑنے کے دوٹیسٹ میں پہلے ہی کام یابی حاصل کرلی ہے ۔اس دوران اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 41 کلو میٹر فی گھنٹے سے 74 کلو میٹر فی گھنٹہ تھی ۔پہلی پرواز سے قبل طیارے کے رن وےپر دوڑنے کے مزید تین ٹیسٹ کئے جائیں گے۔انگیجیٹ کے مطابق اگلے تین ٹیسٹ کے دوران طیارہ رن وے پر دوڑتے ہوئے 128 کلو میٹر فی گھنٹہ سے لے کر 222 کلو میٹر فی گھنٹےکی رفتار پکڑ ے گا۔ اس کے مقابلے میں روایتی جیٹ طیارے 190 کلو میٹر فی گھنٹہ سے 241 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک رن وے پر دوڑتے ہیں۔ طیارے کے تخلیق کاروں کے مطابق خلا کارگو بھیجنے کے لیے استعمال کئے جانے کے ساتھ ساتھ اسے ایک خفیہ شٹل کے سائز کا راکٹ خلا میں بھیجنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکے گا ،جس کا کوڈ نام ’’بلیک آئس‘‘ ہے۔ رن وے پر طیارے کے دوڑنے کی کم رفتار والے ٹیسٹ 25فروری 2018ء کو کئے گئے تھے، جس کے دوران طیارے میں نصب 8940 پونڈز وزنی تمام 6 انجن چلائے گئے تھے۔ اسٹار ٹو لائونچ کی جسامت اتنی بڑی ہے کہ اس میں دہرے ڈھانچے (Fuselags) کی ضرورت پیش آئی اور دونوں ڈھانچوں میں دو علیحدہ کاک پٹ بنائے گئے ۔کیلی فورنیا کے میوجیوائر اینڈ اسپیس پورٹ پر ہونے والے حالیہ ٹیسٹ کا بنیادی مقصد رن وے پر جہاز کو چلانے اور روکنے کی اہلیت جانچنا تھا۔ اسٹار ٹو لائونچ سسٹمز کارپوریشن کی ایک گرائونڈ ٹیم نے طیارے کے متعدد سسٹمز بشمول موڑنے، روکے، پھسلنے سے بچانے اور ریڈیو سگنلز کے ذریعے مسافت پیمائی (Telemetry) کی جانچ پڑتال کی۔ قبل ازیں انجینئروں نے گزشتہ سال دسمبر میں طیارے کے رن وے پر دوڑنے کے ٹیسٹ کئے، مگر اس وقت رفتار صرف 25 ناٹس (45 کلو میٹر فی گھنٹہ) تک پہنچ سکی تھی، جب طیارہ ہوا کے دوش پر رواں ہوگا تو صرف تین افراد پر مشتمل کریو (پائلٹ، شریک پائلٹ اور فلائٹ انجینئر )دائیں جانب والے کاک پٹ میں بیٹھ کر طیارے کو کنٹرول کریں گے۔ بائیں جانب کا ڈھانچہ بظاہر دیکھنے سے بالکل دائیں جانب جیسا نظر آتا ہے ،جس میں کاک پٹ اور باہر دیکھنے کے لیے کھڑکیاں بھی ہیں ،مگر درحقیقت یہ حصہ خالی اور کسی دبائو کے بغیر ہوگا۔ایک رپورٹ کے مطابق اسٹار ٹو لائونچ کا وزن کسی کارگو کے بغیر تقریباً 5لاکھ پائونڈ زہے، جب کہ اس میں 13لاکھ پائونڈز وزنی کارگو لے جانے کی گنجائش بھی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ طیارہ قوی الجثہ ہونے کے باعث ائربورن راکٹ لانچر کی حیثیت سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ روایتی طور پر سٹیلائٹس اور دیگر خلائی وہیکلز خلا میں ایک لائونچ پیڈ سے چھوڑے جاتے ہیں، جس کے لیے بھاری مقدار میں فیول کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اسٹار ٹو لائونچ کی ٹیم نے گزشتہ سال ستمبر میں پہلا انجن اسٹارٹ کرنے کے بعد سے مشن کنٹرول سینٹر (ایم سی سی) پر تمام انجنوں کی کارکردگی کا جائزہ بھی لے لیا تھا۔بشکریہ روزنامہ جنگ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here