عاطف رضا کے والد کے لیے قرآن خوانی

0
958

عاطف رضا کے والد (مرحوم) کے ایصال ثواب کے سلسلے میں قرآن خوانی اور ختم شریف کی محفل کا انقاد…….
اسٹریا ویانا ………رپورٹ: محمد عامر صدیّق
ادارہ المصطفی انٹرنیشنل ویانا آسٹریا میں عاطف رضا کے والد (مرحوم) کے ایصال ثواب کے سلسلے میں قرآن خوانی اور ختم شریف کی محفل کا انقاد کیا گیا.اس موقع پر پاکستانی کمیونٹی کی تنظیموں کے سربراہان کے علاوہ تاجر برادری ،سیاسی ،مذہبی اور کاروباری افراد نے بھرپور شرکت کی.پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا،حبیب اللہ اویس قادری نے شرف حاصل کیا.تلاوت کلام پاک کے بعد

حضور سرکار دوعالم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح سرائی کا سسلہ شروع ہوا ،نعت رسول مقبول یورپ کے معروف نعت خواں غلام مصطفیٰ نعیمی (صدر منہاج نعت کونسل آسٹریا)مراقبہ ہال کے کوارڈینیٹر آسٹریا محمد آفتاب سیفی عظیمی،خالد عبّاس.حاجی محمد یونس،محفوظ الحسن، عثمان شاہ قادری اور آسٹریا کے مشہور نعت خواں شامل ہوئے۔إدارة المصطفى ويانا آسٹریا کے خطیب پروفیسر راجہ اظہر عباس سیالوی نے خصوصی خطاب میں کہا ک تعزیت کے فضائل میں متعدد احادیث وآثار منقول ہیں اور مسلمانوں کا اس پر عمل بھی ہے، تعزیت کے باب میں جو احادیث نقل کی گئی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ تعزیت سنت مؤکدہ کے درجہ رکھتی ہے۔ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:” من عزى مصابا فله مثل أجره”(ترجمہ )جس نے کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کی تو اس کے لئے مصیبت زدہ کے برابر ثواب ملتا ہے۔ابن ماجہ اور دیگر نے حضرت عمرو بن حزم سے نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:“ما من مؤمن يعزي أخاه بمصيبه إلا كساه الله من حلل الكرامة يوم القيامة”(ترجمہ )جو مومن اپنے بھائی کی مصیبت کے وقت اس کی تعزیت کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن عزت وشرف کا لباس پہنائیں گے۔تعزیت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ میت کے گھر والوں کے لئے کھانے کا انتظام کرکے یا اس سلسلے میں ان کی ضرورتوں کو پوری کرکے انہیں تسلی دی جائے، نبی کریم ﷺ کو جب اپنے چچا حضرت جعفر بن ابی طالب کی جنگ موتہ میں شہادت کی اطلاع ہوئی تو آپ نے اپنے گھر میں حکم دیا: ” اصنعوا لآل جعفر طعاما، فقد اتاھم ما يشغلهم (جعفر کے اہل خانہ کے لیے کھانا تیار کرو، غم کے سبب ان کے اہل خانہ یہ نہیں کرسکتے)آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ”ایک مسلمان کی دعا،اپنے مسلمان بھائی کے لیے، اس کی عدم موجودگی میںمقبول ہوتی ہے ، اس کے پاس ایک فرشتہ متعین کردیا جاتا ہے ، جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے کسی بھلائی کی دعا کرتا ہے تو متعین فرشتہ آمین کہتا ہے اور کہتا ہے کہ تجھے بھی اسی طرح ملے “۔[رواہ مسلم] بلکہ نمازجنازہ خود اس کی سب سے بڑی مثال ہے ، اس لیے کہ اس کا اکثر حصہ میت کے حق میں دعا اور استغفار پر مشتمل ہے ۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ” جب انسان مرجاتا ہے تو اس سے اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے ، سوائے تےن چےزوں کے :صدقہ جاریہ یا وہ علم جس کے ذریعے [ مخلوق کو ) فائدہ حاصل ہو یا اس کے لیے دعا کر نے والا نیک لڑکا “۔ [ مسلم ]نیک اولاد جو نیک اعمال کرتی ہیں ان کے ثواب میں کمی کئے بغیر ا ن کے والدین کو بھی ان ہی کے برابر ثواب دیا جائے گا، اس لیے کہ اولاد بھی والدین کی کوشش اور کمائی کا ایک حصہ ہیں ، جےسا کہ اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴾ وَ اَن لَیسَ لِلاِنسَانِ اِلاَّ مَا سَعٰی ﴿[النجم : 39] :” اور يہ کہ انسان کو صرف اسی کے عمل کا بدلہ ملے گا“۔اور رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے : ” سب سے پاکےزہ مال وہ ہے جو انسان اپنی کمائی سے کھاتا ہے اور اس کی اولاد بھی اسی کی کمائی کا اےک حصہ ہے “۔[ ابوداؤد : اور علامہ البانی نے اس روایت کوصحیح قرار دیاہے]محفل کے اختتام پر حفیظ اللہ قادری نے ختم شریف اور محبوب ربانی نے حضور علیہ السلام کی بارگاہ میں صلوۃ و السلام کا حدیہ پیش کیا بعداز حبیب عطاری نے دعائے مغفرت تمام عالم اسلام ملک پاکستان کے حق میں اور حاضرین کے لئے صحت و تندرستی اور رزق میں کشادگی کے لئے پرخلوص دُعائیں کی محفل کے اختتام پر طعام ما حضر پیش کیا گیا.اور احتتام پر عاطف رضا اور غضنفر بابا علی شاہ نے محفل میں شرکت کرنے پر سب کا شکریہ ادا کیا.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here