عامر لیاقت پی ٹی آئی میں ان کئی آوٹ

0
882


پاکستان کے سابق وزیرِ مملکت اور نیوز اینکر عامر لیاقت حسین نے تحریک انصاف میں باضابطہ شمولیت اختیار کر لی ہے جس کا اعلان پیر کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے ان الفاظ میں کیا کہ ’میرا آخری مقام پی ٹی آئی تھا۔‘
اس خبر نے سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب کے بعد سے دباؤ کا شکار پی ٹی آئی کو بیرونی ہی نہیں اندرونی طور پر بھی مزید دباؤ کا شکار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے کئی کارکن اعلانیہ اس فیصلے کے خلاف نہ صرف اظہارِ رائے کر رہے ہیں بلکہ کچھ نے تو پارٹی کے ساتھ اپنے تعلق کو ختم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
بڑی تعداد میں لوگوں نے عامر لیاقت کے دو ہفتے قبل شو کی ویڈیو شیئر کی جس میں وہ عمران خان کی ذاتی اور سیاسی زندگی پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔ جیسا کہ ایک صارف جاوید نے پوچھا ‘یہ عامر لیاقت ہے اپنے ٹاک شو میں صرف ایک ہفتہ قبل۔ اسے ضرور دیکھیں یہ کیسے عمران خان کی سیاسی اور ذاتی زندگی پر حملے کر رہا ہے اور پھر فیصلہ کریں کہ کیا آپ اسے اپنی سیاسی جماعت میں داخل کرنا چاہیں گے؟ میں جانتا ہوں کہ ہم پی ٹی آئی کے حمایتی ہیں مگر ہم اندھے حمایتی نہیں ہیں اور ہم یہ تسلیم نہیں کریں گے۔’
علی قزلباش نے لکھا ‘عامر لیاقت مبارک ہو، میرا پی ٹی آئی کے ساتھ سفر یہاں اختتام پذیر ہوا۔’
صبغت منور نے لکھا ‘عامر لیاقت پی ٹی آئی کا حصلہ بن چکے ہیں مگر میں آج سے اس کا حصہ نہیں ہوں۔ امید ہے کہ ایک دن یہ سب درمیان میں چھوڑ کر چلا جائے گا اور مزید الزامات لگائے گا۔’
بہت سوں نے اس فیصلے کی وجوہات پر بھی تبصرہ کیا جن میں علی عباس زیدی بھی شامل تھے جنھوں نے لکھا ‘پی ٹی آئی کی غلطی ہے اگر وہ یہ سمجھتی ہے کہ عامر لیاقت کے کوئی مداح ہیں یا ان کا کراچی میں ووٹ بینک ہے۔ ہر ایک انہیں اسی نسبت سے جانتا ہے جو وہ ہیں، بحثیت ایک اینٹرٹینر کے۔ سیاسی جماعتیں ہمیشہ کراچی کی نبض سمجھنے اور اس کے سیاسی انتظام کو سمجھنے میں غلطی کرتی آئی ہیں۔ پی پی پی ناکام ہوئی جماعت اسلامی ناکام ہوئی، پی ٹی آئی ناکام ہوئی اور پاک سرزمین پارٹی ناکام ہوئی۔’
سعید نے سوال کیا کہ ‘عامر لیاقت کو اس لیے پارٹی میں قبول کیا جا رہا ہے کہ وہ نواز شریف کے خلاف اچھا بول لیتے ہیں اس کے علاوہ تو مجھے ان کی کوئی قابلیت نظر نہیں آتی۔’
عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے لکھا ‘کیا عامر لیاقت اب میرا 2015 میں کیا گیا انٹرویو نشر کریں گے؟ بلیک میل کر کے پی ٹی آئی میں راستہ بنانے والے۔’
مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف سے جب اس بارے میں سوال ہوا تو انھوں نے کہا کہ ‘الحمد للہ وہ ن لیگ میں شامل نہیں ہوئے۔ انھوں نے چند سال قبل کوشش کی تھی شمولیت کی۔ شکریہ بی بی سی اردو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here