عدالت کا پرویز مشرف کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطہ کرنے کا حکم

0
593


سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے وزارت داخلہ کو حکم دیا ہے کہ وہ ملزم کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطہ کرے۔
عدالت نے وزارت داخلہ کو حکم دیا ہے کہ وہ پرویز مشرف کو گرفتار کر کے خصوصی عدالت کے سامنے پیش کرے۔
یہ پہلی مرتبہ ہے کہ آئین شکنی کے مقدمے میں خصوصی عدالت نے سابق فوجی صدر کی گرفتاری کے لیے حکومت کو انٹرپول سے رابطہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس سے پہلے خصوصی عدالت ملزم پرویز مشرف کو آئین شکنی کے مقدمے میں اشتہاری قرار دے چکی ہے لیکن حکومت نے اپنے تئیں ملزم کی گرفتاری کے لیے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کے حوالے سے انٹرپول سے رابطہ نہیں کیا۔
ملزم پرویز مشرف کے بیرون ملک چلے جانے کے بعد حکومت کا موقف تھا کہ اُنھوں نے ملزم کو سپریم کورٹ کے حکم پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی ہے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے اپنے حکم میں ملزم پرویز مشرف کی گرفتاری میں مثبت اقدام نہ اُٹھانے پر وفاقی حکومت کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مجرموں کے تبادلے کا معاہدہ موجود ہے اور اس تناظر میں حکومت نہ صرف ان کی اس ملک میں جائیداد کو قرقی کرسکتی ہے بلکہ پرویز مشرف کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کو بھی معطل کیا جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی طرف سے تین نومبر2007 میں ملک میں ایمرجنسی لگانے اور آئین کو معطل کرنے پر اُن کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا اور جرم ثابت ہونے پر اس کی سزا موت ہے۔
آئین شکنی کے اس مقدمے میں ملزم پرویز مشرف پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔
دوسری طرف سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے وطن واپس آنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں اُنھوں نے سکیورٹی کے لیے حکومت کو درخواست دی ہے۔ ملزم پرویز مشرف کی طرف سے وطن واپس آنے کی کوئی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
وزارت داخلہ کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اُنھیں پرویز مشرف کی طرف سے سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست موصول ہوئی ہے جس پر غور کیا جا رہا ہے۔شکریہ بی بی سی اردو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here