غلام خان کے مقام پر بھی افغان بارڈر تجارت کے لیے چار سال بعد کھول دیا

0
604

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں غلام خان کے مقام پر پاک افغان سرحد ہر قسم کی تجارت کے لیے آزمائشی طور پر چار برس کے وقفے کے بعد دوبارہ کھول دی گئی ہے۔
جمعے کو سرحد کھلنے کے بعد تین کنٹینر افغانستان کی جانب روانہ ہوئے ہیں جنھیں وہاں موقع پر موجود پولیٹکل انتظامیہ اور دیگر حکام نے رخصت کیا۔
طورخم اور چمن کے بعد غلام خان کو افغانستان کے ساتھ تجارت کا تیسرا بڑا راستہ سمجھا جاتا ہے اور اس راستے کے ذریعے ہونے والی تجارت کا فائدہ خیبر پختونخوا کے جنوبی پسماندہ اضلاع کو ہو گا۔ فاٹا سیکریٹیریٹ کے ترجمان عبدالسلام وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ سرحد آزمائشی بنیادوں پر کھول دی گئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ فیصلہ ہوا ہے کہ ہفتے میں چار دن پاکستان سے اور دو دن افغانستان سے گاڑیاں سرحد عبور کریں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ سرحد پر تمام انتظامات کیے جا رہے ہیں جیسا کہ طور خم اور چمن بارڈ پر ہیں جہاں تمام متعلقہ اداروں کے دفاتر قائم ہیں اور ایک نظام کے تحت گاڑیاں سرحد عبور کرتی ہیں۔
عبدالسلام وزیر نے کہا کہ بہت جلد یہ سرحد ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مستقل بنیادوں پر کھول دی جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد ان علاقوں میں امن قائم کر دیا گیا ہے تاہم پھر بھی یہاں سے جانے اور آنے والی گاڑیوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے سکیورٹی اداروں کے اہلکار اور مقامی انتظامیہ کے اہلکار موجود ہوں گے۔
غلام خان سرحد کے راستے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں سے اففغانستان کے صوبے پکتیکا میں خوست تک ڈیڑھ گھنٹے میں پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ شاہراہ امریکہ کے تعاون سے حال ہی میں مکمل کی گئی ہے جبکہ اس سے پہلے اس راستے سے جانے پر پانچ سے چھ گھنٹے لگتے تھے۔
گذشتہ چار برسوس میں تین مرتبہ اس سرحدی گزر گاہ کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن آخری مرحلے میں یہ فیصلہ ملتوی کر دیا گیا۔
غلام خان سرحد شمالی وزیرستان میں جون 2014 میں فوجی آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے بند کی دی گئی تھی۔
وزیرستان اور خیبر پختونِوا کے جنوبی اضلاع میں تاجر برادری نے سرحد کھولنے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
شکریہ بی بی سی اردو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here