قومی سلامتی کمیٹی نے نواز شریف کا بیان رد کردیا

0
522

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے، اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نےمتفقہ طور پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کا بیان مسترد کردیا۔
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے حالیہ متنازع بیان سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کے لیے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس 2 گھنٹے جاری رہنے کے بعد ختم ہوگیا، اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کیا گیا۔
قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں ممبئی حملوں سے متعلق ایک اخباری بیان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں نوازشریف کے بیان کی متفقہ طور پر مذمت کی گئی،اجلاس کے شرکاء نے نوازشریف کے بیان میں لگائے گئے الزامات کو متفقہ طور پر مسترد کرتے ہوئے یہ بیان متفقہ طور پر بالکل غلط اور گمراہ کن قرار دیا۔
اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے متفقہ فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 12مئی کو شائع ہونے والا بیان مکمل طور پر غلط، گمراہ کن اور مس لیڈنگ ہے۔
اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افسوس اور بدقسمتی ہے کہ حقائق کو شکایت کے اندازمیں غلط بیان کیا گیا، اس اخباری بیان میں ٹھوس شواہد اور حقائق کو نظر انداز کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نےالزامات کو متفقہ طور پر سختی سے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی اس گمراہ کن بیان کی سختی سے مذمت کرتی ہے، بیان میں لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں۔
اعلامیے کے مطابق بھارت ممبئی حملے کی تحقیقات مکمل نہ ہونےکا ذمہ دار ہے، جبکہ پاکستان نے ممبئی حملوں کی تحقیقات کے لیے مکمل تعاون کیا۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ کیس کے مرکزی ملزم اجمل قصاب تک رسائی نہیں دی گئی، اجمل قصاب کی غیرمعمولی طور پر جلد بازی میں پھانسی کیس کے منطقی انجام میں رکاوٹ بنی۔
اعلامیے کے مطاق بھارت ممبئی حملے کی تحقیقات مکمل نہ ہونےکا ذمے دار ہے، اس نے تحقیقات میں تعاون سے مسلسل انکار کیا۔
اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان بھارت سے کلبھوشن اور سمجھوتا ایکسپریس کے کیسز میں تعاون کا منتظر ہے۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزراء، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات سمیت بحری اور فضائی افواج کے سربراہان شریک ہوئے۔
اجلاس میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی آئی بی محمد سیلمان خان، ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا اور اعلیٰ سول و عسکری حکام نے بھی شرکت کی۔
واضح رہے کہ پاک فوج نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو اجلاس بلانے کی تجویز پیش کی تھی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے اس حوالے سے ٹوئٹر پر جاری پیغام میں کہا گیا تھا کہ اجلاس میں ممبئی حملوں کے حوالے سے میڈیا پر چلنے والے گمراہ کن بیانات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اجلاس میں شرکاء کو ممبئی حملوں کے بعد پاکستان کے تحقیقاتی اقدامات اور تعاون پر بریفنگ بھی دی گئی۔بشکریہ روزنامہ جنگ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here