پانچ جولائی پاکستان کی جمہوری تاریخ کا سیاہ دن

0
794

5 جولائی 1977ء کو جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کیا، ملکی تاریخ کے اس سیاہ دور کی تلخ یادیں بھلائے نہیں بھولتیں، قوم 3دہائیوں بعد بھی اس کے منفی اثرات سے جان نہیں چھڑا سکی۔

پاکستانی قوم سقوط ڈھاکا کا زخم بھولنے کی کوشش کررہی تھی،پہلا متفقہ آئین نافذ العمل ہو چکا تھا،جمہوری دور حکومت کے پہلے انتخابات ہو چکے تھے، ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی ایک بار پھر اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آچکی تھی، اپوزیشن نے چند نشستوں پر دھاندلی کا الزام لگایا، نتائج ماننے سے انکار کردیا۔ملک بھر مظاہرے شروع ہوگئے اور مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات بھی،جو نتیجہ خیز ہونے کی امید پیدا ہوچکی تھی لیکن خدشات حقیقت بن کرسامنے آ گئے۔

5 جولائی 1977ء کو ضیاء الحق نے مارشل لاء نافذ کردیا،90 میں روز میں انتخابات کے وعدے کے ساتھ شروع ہونے والا یہ سیاہ دور گیارہ سال جاری رہا۔

جنرل ایوب خان اور یحییٰ خان کے مارشل لاء کو ملک کے ایک حصے کی علیحدگی کا باعث قرار دیا گیا،تو پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم کی پھانسی،ملک میں انتہاپسندی اور فرقہ واریت، ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر ضیاء دور کے ثمرات کی صورت میں سامنے آئے۔

طیارہ حادثے میں جنرل ضیاء الحق کی ہلاکت نےاس 11سالہ آمریت کا خاتمہ کیا، اسے 11سال ہی گزرے تھے کہ جنرل پرویز مشرف کا مارشل لاء آگیا، جس کے خلاف جمہوری قوتوں کی جدوجہد شروع ہوئی تاہم آمریت سے جان چھڑانے میں 9سال لگ گئے، پھر دو منتخب حکومتوں کو پہلی بار مدت مکمل کرنے کا موقع ملا۔

عوام 25 جولائی کو مسلسل تیسری جمہوری حکومت کا انتخاب کریں گےتاہم ماضی کے بعض سیاہ ادوار کے باعث ملک میں بے یقینی کے بادل منڈلاتے اورخدشات کی ہوائیں چلتی رہتی ہیں۔بشکریہ روزنامہ جنگ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here