پاکستان ٹیم میں شامل’مسٹری سپنر‘ ابرار احمد جن کی ’انگلیوں میں بہت جان ہے‘

0
31

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب ہو سکے گی یا نہیں؟ اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن ٹیم کے کپتان بین سٹوکس پاکستان آتے ہی سب کے دل جیتنے میں ضرور کامیاب ہوگئے ہیں۔بین سٹوکس نے پاکستان کے خلاف ہونے والی تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کی اپنی تمام میچ فیس پاکستان میں سیلاب زدگان کے امدادی فنڈ میں دینے کا اعلان کر دیا ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم جب آخری بار سنہ 2005 میں ٹیسٹ سیریز کھیلنے پاکستان آئی تھی تو اس وقت پاکستان زلزلے کی تباہ کاریوں سے نمٹنے میں مصروف تھا اور اس وقت بھی انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے کپتان مائیکل وان اور مارکس ٹریسکوتھک نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں جا کر زلزلہ متاثرین میں کھانے پینے کی اشیا اور ادویات تقسیم کی تھیں۔انگلینڈ کے کرکٹرز نے اسلام آباد کے ہسپتال میں زلزلے کے متاثرین بچوں سے بھی ملاقات کی تھی۔انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم چونکہ سترہ سال کے طویل عرصے کے بعد ٹیسٹ سیریز کھیلنے پاکستان آئی ہے لہٰذا دونوں ٹیموں میں غیرمعمولی جوش و خروش دکھائی دے رہا ہے۔تین میچوں کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ یکم دسمبر سے راولپنڈی میں کھیلا جائے گا۔انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے دورے پر آنے سے قبل یہ سوال بھی بڑی اہمیت اختیار کرگیا تھا کہ کیا ملک کے سیاسی حالات خصوصاً عمران خان کے دھرنے کے سبب پنڈی ٹیسٹ کو کراچی منتقل تو نہیں کرنا پڑے گا؟اگرچہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے مقتدر حلقوں کے گرین سگنل کی بنیاد پر پہلا ٹیسٹ طے شدہ پروگرام کے تحت راولپنڈی میں ہی کھیلنے کا اعلان کر دیا تھا لیکن اس کے باوجود پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ اور برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کو عمران خان سے ملاقات کرنی پڑی تھی جس میں عمران خان نے ان دونوں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کے جلسے سے راولپنڈی ٹیسٹ متاثر نہیں ہوگا۔انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستان کی جس 18 رکنی ٹیم کا اعلان کیا گیا ہے۔اس میں دو نئے کھلاڑی فاسٹ بولر محمد علی اور سپنر ابرار احمد پہلی بار شامل ہوئے ہیں ان میں ابرار احمد خاص طور پر سب کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ روایتی سپنر نہیں ہیں بلکہ وہ لیگ بریک گگلی کےساتھ ساتھ کیرم بال بھی کر لیتے ہیں۔ابرار احمد نے اس سیزن کی قائداعظم ٹرافی میں 43 وکٹیں حاصل کی ہیں جو اس سال کسی بھی بولر کی سب سے زیادہ وکٹیں ہیں اور یہی کارکردگی ان کی پاکستانی ٹیم میں پہلی بار شمولیت کا سبب بنی ہے۔

                                                         

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here