پی پی پی کےرضا ربانی اگر چیئرمین کے امیدوار ہوئے تو تمام بڑی جماعتیں انکی کی حمایت کر سکتی ہیں

0
652

پاکستان مسلم لیگ کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹ کے موجودہ چیئرمین رضا ربانی کو ہی دوبارہ اس عہدے کے لیے نامزد کرتی ہے تو ان کی جماعت ان کی حمایت کرے گی۔
تاہم سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے وہ ایسی کوئی خواہش نہیں رکھتے۔
بدھ کو اسلام آباد میں مسلم لیگ ن اور اس کی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے مشاورتی اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ رضا ربانی اس عہدے کےلیے بہترین امیدوار ہیں اور انھوں نے اپنے اتحادیوں سے بھی رضا ربانی کی حمایت کے لیے بات کی ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ رضا ربانی ایک اچھے چیئرمین رہے اور ہم ان کی حمایت کر رہے ہیں۔‘تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹ کی چیئرمین شپ کے لیے رضا ربانی کے علاوہ کوئی بھی اور نام سامنے آیا تو مسلم لیگ ن اس کے مقابلے میں اپنا امیدوار سامنے لائے گی۔
تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس صورت میں یہ امیدوار کون ہو سکتا ہے۔
مشاورتی اجلاس میں نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے چیئرمین راجہ ظفر الحق کے علاوہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی، نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل بزنجو اور جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی شرکت کی۔
اس اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے درمیان بھی ایک ملاقات ہوئی جس کے بعد جب صحافیوں نے ان سے سوال کیا کہ نواز شریف چاہ رہے ہیں کہ رضا ربانی چیئرمین سینیٹ بنیں تو آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ’میں ایسا نہیں چاہ رہا۔‘
رضا ربانی وہ سیاستدان ہیں جن کے نام پر پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے مثبت ردعمل ہی سامنے آیا ہے۔
گذشتہ روز پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شفقت محمود نے بھی کہا تھا کہ رضا ربانی وہ رہنما ہیں جنھیں چیئرمین شپ کے لیے نامزد کیے جانے کی صورت میں وہ انھیں ووٹ دے سکتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی ان کی جماعت نے اس بارے میں فیصلہ نہیں کیا ہے۔
سینیٹر رضا ربانی گذشتہ 47 سال سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ وہ حال ہی میں ہونے والے انتخابات میں ساتویں مرتبہ سینیٹر منتخب ہوئے ہیں۔
پارلیمانی خدمات کے اعتراف میں انھیں ملک کے سب سے بڑے سول اعزاز ہلالِ امتیاز سے بھی نوازا گیا ہے۔شکریہ بی بی سی اردو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here