ڈالر کی قیمت میں اضافہ کیسے ہو رہا ہے؟

0
1348

وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت ہونے والا اجلاس ختم ہو گیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ کے نام کو فائنل کر لیا گیا ہے جس کا اعلان وزیراعظم عمران خان کریں گے۔مذکورہ شخص کا تعلق اسلام آباد سے ہے جب کہ وفاقی وزیر علی زیدی کا کہنا ہے کہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کو بتا دیا گیا ہے ڈالر کی قیمت میں اضافہ کیسے ہو رہا ہے؟۔ ڈالر ذخیرہ اندوزی میں کون ملوث ہیں؟یہ بھی پتا لگا لیا گیا۔علی زیدی نے مزید کہا کہ عوام 30جون تک اپنے بے نامی اثاثے ظاہر کریں۔30 جون کے بعد کسی کو رعایت نہیں ملے گی۔وزیراعظم عمران خان آج تحقیقاتی کمیشن کا اعلان کریں گے۔کس نے کتنے پیسے اڑائے سب کے سامنے آ جائے گا،ہمارے پاس سارا ریکارڈ آ چکا ہے۔ خیال رہے اس سے قبل میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ معروف صحافی ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ انکوائری کمیشن کا سربراہ بنانے کے لیے صرف ایک نام زیر غور ہے جو کہ ڈاکٹر شعیب سڈل ہیں،فردوس عاشق اعوان نے اس سلسلے میں بات بلکل ٹھیک کی ہے کہ یہ کام وزیراعظم کے تحت نہیں ہو گا کمیشن ایکٹ کے تحت وہ آزاد ہوتا ہے۔ ڈاکٹر سڈل کی تاریخ یہ ہے کہ انہوں نے حکومت کے دباؤ کے باوجود ایک پریس کانفرنس کی تھی۔جس میں ایک جنرل صاحب جو کہ اچانک وفات پا گئے تھے تو نواز شریف کو قصور وار ٹھہرایا گیا کہ نواز شریف نے انہیں زہر دیا ہے۔لیکن انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔ اسی طرح انہوں نے کراچی میں بھی کبھی کسی کی سفارش نہیں مانی۔ڈاکٹر شعیب سڈل کے حوالے سے اور بھی بہت سے تاریخی واقعات ہیں جب ان پر دباؤ ڈالا گیا تاہم وہ کسی دباؤ میں نہیں آئے۔ ڈاکٹر شعیب سڈل کے بارے میں یہ بات یاد رکھیے کہ جب سپریم کورٹ نے ٹرالوں میں کی جانے والی سگلنگ پر تحقیقات کا حکم دیا گیا تو انہوں نے اس پر ایک رپورٹ لکھی جس میں نہ تو ملک ریاض کو معاف کیا اور نہ ہی چیف جسٹس کے بیٹے کو۔اس رپورٹ میں انہوں نے ایک تجویز بھی دی تھی جس سے ہماری سالانہ 12 ارب روپے آمدنی بڑھ گئی تھی جو کہ ابھی بھی برقرار ہے۔ اسی طرح جب بھی انہیں کام سونپا گیا تو انہوں نے بخوبی کیا،ڈاکٹر شعیب سڈل کو اس سے قبل بھی کئی پیشکش کی گئیں لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ہاون الرشید کا مزید کہنا ہے کہ شعیب سڈل ایک مصروف شخصیت ہیں۔وہ انٹرنیشنل یونیورسٹیوں کے پیپر چیک کرتے ہیں،اقوام متحدہ کے لیے بھی کام کرتے ہیں اور جاپانی پولیس کے ایڈوائزر بھی رہے۔ لیکن اگر اب کی بار شعیب سڈل مان گئے تو پھر کسی کی خیر نہیں ہو گی۔خیال رہے شعیب سڈل اس سے قبل مختلف عہدوں پر رہ تعینات چکے ہیں اور وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات کے بھی ماہر مانے جاتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here