کشمیر جھڑپوں میں 11 شدت پسند، تین فوجی ہلاک

0
491

کشمیر پولیس کے سربراہ نے جنوبی کشمیر کے تین مقامات پر ہونے والے مسلح تصادم میں 11 شدت پسندوں اور تین فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔
پولیس کے سربراہ شیش پال وید کا کہنا ہے کہ خفیہ اطلاع کے بعد آپریش ہفتے کی شام سے ہی شروع کیا گیا تھا۔ پولیس سربراہ کے مطابق شوپیان اور اننت ناگ میں تین مقامات پر شدت پسندوں کا محاصرہ کیا گیا جسکے بعد تصادم شروع ہو گیا۔سرینگر میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق مارے گئے شدت پسندوں میں سے زیادہ تر کا تعلق شوپیان ضلع سے ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ شوپیان کے کاچھ ڈورو گاؤں میں اب بھی تصادم جاری ہے اور خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ تصادم آرائی کے دوران مقامی لوگوں نے احتجاج کیا جسکے بعد پولیس اور فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی اور لوہے کے چھروں کا استعمال کیا۔ اس کارروائی میں دو شہری ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ اس واقعہ کی خبر عام ہوتے ہی وادی میں ہڑتال ہوگئی اور علیحدگی پسندوں کے مشترکہ اتحاد نے پیر کو بھی ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ حکومت نے مظاہروں کو روکنے کے لیے اندرونی ریل سروس اور انٹرنیٹ کو معطل کردیا ہے اور پیر کے روز تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔
سرینگر کے بیشتر علاقوں نے ان ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ پولیس سربراہ ایس پی وید کا کہنا ہے کہ اننت ناگ میں ایک شدت پسند کو زندہ گرفتار کیا گیا۔
تازہ ہلاکتوں کے بعد کشمیر میں جاری کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے اس سال سیاحت کو فروغ دینے کے لیے گزشتہ روز آل انڈیا ٹورازم کانکلیو منعقد کیا تھا جس میں بھارت کی مختلف ریاستوں کے ٹور آپریٹرز نے شرکت کی تھی۔ اس موقع پر وزیراعلیِ محبوبہ مفتی نے قیام امن کے لیے عام لوگوں سے تعاون کی اپیل کی تھی۔
اسی دوران پولیس سربراہ نے علیحدگی پسند رہنماؤں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک پر برسوں سےعائد پابندیوں کے خاتمے کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ لیڈر کہیں بھی جانے کے لیے آزاد ہیں لیکن ان کے عوامی رابطے سے امن و قانون میں خلل نہیں پڑنا چاہیے۔ کئی سال بعد گزشتہ جمعہ کو تینوں رہنماؤں نے مختلف مقامات پر جمعہ کے اجتماعات سے خطاب کیا۔ حکومت کے اس تازہ رویہ سے کئی حلقوں کو اُمید تھی کہ تین سال سے شدت پسندوں کے خلاف جاری فوج کا ’آپریشن آل آؤٹ‘ بھی معطل کیا جائے گا تاکہ اس گرما میں حالات پرسکون رہیں، لیکن تازہ تصادم آرائیوں اور عوامی ردعمل سے ایسا لگتا ہے کہ لگاتار تیسرے سال بھی کشمیر میں حالات کشیدہ رہیں گے۔شکریہ بی بی سی اردو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here