12 سال کی عمر سے موٹرسائیکل میری بہترین دوست ہےرفعت شیراز

0
466


لمبے بالوں کا جوڑا بنا کر سر پر سفید ہیلمٹ پہنے ایک خاتون لاہور کی سڑکوں پر ایسے موٹرسائیکل دوڑاتی ہے جیسے سڑک سے کوئی پرانی دوستی ہو اور کیوں نہ ہو، 12 سال کی عمر سے موٹرسائیکل ان کی بہترین دوست جو رہی ہے۔
لاہور سے تعلق رکھنے والی رفعت شیراز پاکستان میں آن لائن ٹرانسپورٹ بکنگ کمپنی کریم سے وابستہ پہلی خاتون موٹرسائیکلسٹ ہیں جو اپنی موٹر سائیکل پر لڑکے اور لڑکیوں دونوں کو رائیڈز دیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں اکثر لڑکوں کو دیکھتی تھی کہ وہ بائیک چلا رہے ہیں تو میرا بھی دل کرتا تھا۔ میں 12 سال کی تھی جب میں نے اپنے شوق سے بائیک چلانا سیکھی اور چلائی بھی لیکن مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ یہ شوق ایک دن مجھے اس ملک کی پہلی فیمیل کریم رائیڈر بنا دے گا۔
’دراصل میں کریم گاڑی چلانے کیلئے رجسٹریشن کروانے گئی تھی، وہاں بات نہیں بنی تو سوچا اپنا موٹرسائیکل ہے کریم بائیک میں قسمت آزما لوں۔ بس یہیں سے شروع ہوئی میری کہانی۔`
لاہور شہر کی بےہنگم ٹریفک میں جہاں گاڑی چلانا اپنے آپ میں ایک مشن ہے۔ ایسے میں ایک خاتون کے لیے ایسی ٹریفک میں مردوں کو اپنی موٹرسائیکل پر پیچھے بٹھا کر سواری دینا کتنا مشکل ہے اس کا خلاصہ رفعت کچھ یوں کرتی ہیں موٹرسائیکل چلاتے ہوئے جب مجھے کوئی راستہ نہیں دیتا یا زبردستی اوورٹیک کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر میں بھی کسی سے کم نہیں ہوں۔ میں بھی اپنی بیچ سے نکلنے کی کوشش کرتی ہوں۔‘زیادہ تر تو سکول کالج کے لڑکے ہوتے ہیں یا اب تھوڑی بہت لڑکیاں بھی آنا شروع ہو گئی ہیں۔ لیکن جب میرے ساتھ کوئی بڑی عمر کا آدمی سواری کی بکنگ کرتا ہے تو میں کشمکش میں پڑ جاتی ہوں۔ کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کس طرح ان کو سمجھاؤں۔ پھر میں انھیں بھائی کہہ کر ذرا پیچھے ہٹاتی ہوں کہ فاصلہ رکھ کر بیٹھیں، آپ کسی مرد کے ساتھ نہیں، ایک خاتون ڈرائیور کے ساتھ سوار ہیں۔ بھائی اپنا فاصلہ برقرار رکھیں۔‘
رفعت کا کہنا ہے کہ کچھ ایسے لوگ بھی ملے جنھوں نے انھیں دیکھ کر موٹرسائیکل پر بیٹھنے سے انکار کر دیا اور رائیڈ ہی کینسل کر دی تو وہیں کچھ مرد حضرات کو انھیں سمجھانا پڑتا ہے کہ اگر انھیں رفعت کے موٹرسائیکل چلانے پر اعتراض ہے تو وہ خود موٹرسائیکل چلا لیں اور رفعت پچھلی سیٹ پر بیٹھ جائیں گی۔
اتنی مشکلات سے نمٹتے ہوئے رفعت موٹرسائیکل چلا کر پیسے کمانے کی کوشش تو کر رہی ہیں لیکن وہ کہتی ہیں یہ کام اتنا منافع بخش نہیں۔ سارے کمائے ہوئے پیسے پٹرول اور بائیک کی مرمت میں لگ جاتے ہیں۔ کسی سواری کو دور دراز علاقے میں لے کر جاؤ اور واپسی پر سواری نہ ملے تو خالی ہاتھ آنا پڑتا ہے۔ اسی لیے میں نے دوپہر کو ایک اور کمپنی میں کام شروع کیا ہے۔ میں ان کی اکلوتی خاتون رائیڈر ہوں۔ اب صبح کریم کی بائیک چلاتی ہوں، دوپہر سے شام تک اس کمپنی میں کام اور پھر شام کو کریم کی بائیک چلاتی ہوں۔`
رفعت مانتی ہیں کہ پاکستان میں لڑکیوں کے لیے موٹرسائیکل چلانا مشکل نہیں، ضرورت ہے تو بس یہ کہ معاشرہ انہیں کھلے دل اور دماغ سے قبول کرے۔
ان کی خواہش ہے کہ ایک دن وہ اپنی موٹرسائیکل پر پورے پاکستان کا دورہ کر سکیں۔شکریہ بی بی سی اردو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here