شمالی وزیرستان سے محسن داوڑ کو گرفتار کر لیا گیا

0
329

شمالی وزیرستان:بویا میں فوجی چیک پوسٹ پرحملہ کرنے کے بعد فرار ہو جانے والے محسن داوڑ کو گرفتار کر لیا گیا۔ 26مئی کو محسن داوڑ نے علی وزیراور اپنے ساتھیوں کے ہمرہ پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا تھا جس میں 1فوجی شہید جبکہ 5زخمی ہو گئے تھے۔ پاک فوج کی جوابی کارروائی پر 3حملہ آور ہلاک جبکہ 10زخمی ہو گئے تھے۔ سکیورٹی اداروں نے حملہ کرنے پر علی وزیراور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا تھا جبکہ محسن داوڑ فرار ہو گئے تھے جس کے بعد انہوں نے غیر ملکی میڈیا پر پاکستان اور افواجِ پاکستان کے خلاف انٹرویو بھی دیا تھا ، آج سکیورٹی فورسز نے انہیں گرفتار کر لیا ہے۔ اس سے پہلے پاک فوج پر بزدلانہ حملے کے بعد محسن داوڑ کا روپوش ہونے کے بعد پہلا بیان سامنے آیا تھا۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما محسن داڑ نے اپنے مطالبے سے آگاہ کیا تھا۔ محسن داوڑ نے نامعلوم مقام پر غیر ملکی میڈیا کو دئے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ پاک فوج وزیرستان سے چلی جائے۔ خیال رہے کہ پاک فوج نے کئی سالوں کی ان تھک محنت، دہشتگردوں کے خلاف آپریشن اور ان آپریشنز میں جوانوں کی قربانیاں دے کر وزیرستان میں امن بحال کیا تھا لیکن حال ہی میں محسن داوڑ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر وزیرستان میں پاک فوج کی چوکی پر نہ صرف حملہ کیا بلکہ وزیرستان میں امن وامان کی صورتحال بھی خراب کرنے کی کوشش کی جس کی سختی سے مذمت بھی کی گئی۔ محسن داوڑ کے حالیہ انٹرویو میں کیے گئے مطالبے پر سیاسی اور دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ محسن داوڑ کے اس بیان سے لگتا ہے کہ وہ وزیرستان میں بحالی امن سے خوش نہیں ہیں اور دوبارہ پاک فوج کو وزیرستان سے بھیجنا چاہتے ہیں اگر پاک فوج وزیرستان سے چلی گئی تو عین ممکن ہے کہ وزیرستان دوبارہ سے دہشتگردوں کی آماجگاہ بن جائے جو کہ پاکستان کے لیے ناقابل قبول ہے۔ یادر رہے کہ پاک فوج کی چوکی پر ساتھیوں سمیت حملہ کرنے والے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ مفرور تھے۔ 26 مئی کو رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے اپنے ساتھیوں سمیت شمالی وزیرستان میں سکیورٹی اہلکاروں کی چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا تھا جس کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید جبکہ چار اہلکار زخمی ہو گئے تھے تاہم جوابی کارروائی میں تین حملہ آور مارے گئے جبکہ دس افراد زخمی ہوئے تھے اور اب محسن داوڑ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here