نان فائلر کا کنسپٹ بھی ختم

0
99

چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ری ٹیلرز اور دکان داروں کو فکس طریقہ کار کے ذریعے ٹیکس نیٹ میں لائیں گے، 240 اسکوائر فٹ کی دکان سے 25 ہزار سے زائد سالانہ ٹیکس نہیں لیں گے، بڑے دکان داروں اور مالز کو ٹیکس نظام سے براہ راست جوڑیں گے۔ انھوں نے کہا کہ کمیشن ایجنٹس اور ڈیلرز کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے رجسٹر کریں گے، بیوٹی پارلرز پر ابھی تو ٹیکس نہیں لگایا لیکن بعد میں لگائیں گے۔ حکومت نے مالی سال کے لیے 5500 ارب کا ریونیو ہدف رکھا ہے۔اسمگلنگ اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ نے ہماری صنعت تباہ کر دی، مسئلے کے حل تک پاکستانی انڈسٹری آگے نہیں جا سکتی۔شبر زیدی نے کہا کہ ہم نے نان فائلر کا لفظ قانون سے مٹا دیا ہے، نان فائلر کو نوٹس دیں گے اور ان سے ٹیکس لیں گے، تکنیکی طور پر نان فائلر کرمنل کہلاتا ہے۔ اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے ایک لاکھ 5 ہزار میں سے زیادہ تر نان فائلر ہیں، امید ہے حکومت کو45 بلین سے بھی زیادہ رقم ملے گی، سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن کمپیوٹر کے ذریعے ہوگی۔انھوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بے نامی قانون پر آج رات سے عمل درآمد شروع کر دیا ہے، بے نامی جائیدادیں زیادہ تر سیاسی فیملیز کی ہوں گی۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ یکم ایگست سے شناختی کارڈ این ٹی این نمبر بن جائے گا، جو فائلر نہیں وہ منی ایکس چینج سے کرنسی نہیں حاصل کر سکتا، ایکسچینج کنٹرول کو ریفارم کر دیا ہے۔ شبر زیدی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے شہری کی کہیں بھی پراپرٹی ہے تو ٹیکس دینا ہوگا، پاکستانی شہری غیر قانونی رقم بچانے کے لیے باہر چلے جاتے تھے، جائیداد کا کرایہ پاکستان بھیجنے کے بجائے کہیں اور بھیجا جاتا تھا، سندھ اور پنجاب کی زمینوں کا ریکارڈ ہمارے پاس آ چکا ہے، جائیداد ڈکلیریشن سسٹم کے لیے ڈرانے دھمکانے کے بجائے وقت دیں گے۔انھوں نے کہا کہ دنیا میں ٹیکس سیشن شہریت کی بنیاد پر ہوتا ہے، اگر کوئی 83 دن پاکستان میں رہا ہے تو آپ شہری بن جائیں گے، اب یہ قانون تبدیل کر کے 83 کے بجائے 120 دن کی شرط رکھی گئی ہے، اس کے بعد ٹیکس دینا ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ملک کے بازاروں میں اسمگلنگ شدہ چیزیں موجود ہیں، اسمگلنگ شدہ چیزوں کے انٹری پوائنٹس ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، اسمگلنگ روکنے تک دکانوں پر چھاپہ مار کارروائی موثر نہیں ہوگی، اسمگلنگ ختم کرنے کے لیے ہمیں سب چیزوں کو ساتھ دیکھنا پڑے گا، 6 رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے جو یہ بتائے گی کہ معاملات کو حل کیسے کرنا ہے۔شبر زیدی نے کہا کہ پالیسی سخت کر دی گئی ہے امید ہے جلد الات بہتر ہوں گے اور ملکی معیشت بھی اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here