ڈاکٹر عبد القدیر خان کا حکومت کے نام کُھلا خط

0
63

پاکستان کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان نے حکومت کے نام ایک کُھلا خط لکھا ہے جس میں کہا گیا کہ میں نے لاہور ہائیکورٹ میں اپنے اوپر حکومت کی جانب سے چند غیر قانونی اور بلاجواز رکاوٹیں ڈالنے پر پٹیشن دائر کی اور حسب معمول حکومت کی جانب سے جھوٹ کا پلندہ پہش کیا جا رہا ہے کہ میری جان کو خطرہ ہے۔ جب میں نیوکلئیر پروگرام اور ایٹمی بم بنانے میں مصروف تھا اس وقت میرے ساتھ رفقائے کار ہوتے تھے نہ ہی میرے ساتھ گارڈز ہوتے تھے، اُس وقت نہ میرے ساتھ کوئی بندوقیں تھیں، نہ فوجی اور نہ ہی رینجرز۔ ایٹمی دھماکوں کے چھ برس بعد تک میں دنیا میں سفر کرتا رہا ہوں۔ اس وقت سب کو علم تھا کہ میں کون ہوں۔ اور اب جبکہ میں 83 سال سے زیادہ عمر رسیدہ ہو چکا ہوں ، چلنا پھرنا مشکل ہے۔میں اپنے ملک میں ہی ہوں۔ اور باہر جانے کا قطعی کوئی ارادہ نہیں ہے تو اس دروغ گوئی سے مجھے پریشان کیا جا رہا ہے۔ درحقیقت ان کو اپنی بدمعاشیوں کے راز فاش ہونے کا خطرہ ہے۔ مگر میں محب وطن پاکستانی ہوں میں نے اور میری بیوی بچوں نے ملک کی خاطر خاندانی زندگی قربان کر دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں جان دے دوں گا کبھی ملک سے غداری نہیں کروں گا۔ میں ایک عام انسان کی طرح اپنی بقیہ زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ خیال رہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان کی نظر بندی سے متعلق کیس بھی زیر سماعت ہے۔ گذشتہ ماہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس کیس کی پیروی خود کرنے کی بھی استدعا کی تھی اور کہا تھا کہ حکومت نے مجھے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے اور نقل وحرکت کی اجازت نہیں دی جارہی۔یہ درخواست ایڈووکیٹ مدثر چودھری کی وساطت سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی گئی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here