صدر ن لیگ میاں شہبازشریف کی پریس کانفرنس

0
53

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہبازشریف نے کہا ہے کہ شاہد خاقان کی گرفتاری نیب اور عمران نیازی کی ملی بھگت ہے، شاہد خاقان کو نوازشریف کا دلیر ساتھی ہونے پر گرفتار کیا گیا،یہ احتساب نہیں بدترین سیاسی انتقام ہے،عمران نیازی معیشت کے جنازے کو گرفتاریوں کے پیچھے چھپانا چاہتا ہے ۔انہوں نے ن لیگی رہنماؤں کے ہمراہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری نیب اور عمران نیازی کی ملی بھگت سے ن لیگ پروار کیا گیا۔ بھونڈے طریقے سے شاہد خاقان عباسی کو گرفتارکیا گیا۔جب انہوں نے احتجاج کیا کہ میرے وارنٹ گرفتاری کہاں ہیں؟ نیب اہلکاروہاں ایم دوسرے کا منہ تکتے رہے، وہاں ایک افسر آیا کہ ڈی جی نیب خود تشریف لائے اور واٹس ایپ میسج دکھایا، وہ پھر گئے اور فوٹوکاپی لے آئے، شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میں قانون کا احترام کرتا ہوں، آپ گرفتار کرلیں۔ لیکن وارنٹ گرفتاری دکھائیں۔ عمران نیازی نے پاکستان کی معیشت کا جنازہ نکال دیا ۔ معیشت کے جنازے کو ان گرفتاریوں کے پیچھے چھپانا چاہتا ہے ۔شہبازشریف نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی کا پروفائل یہ ہے کہ 5ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے، جن میں 3500میگاواٹ بجلی پیدا کررہا ہے۔باقی کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے۔ حویلی بہادرشاہ دوپلانٹ لگے ہیں،بھکھی،بلوکی پلانٹ لگے۔ اگر یہ پلانٹ نہ لگتے تو آج لوڈشیڈنگ ہوتی۔ کراچی سے ایل این جی پائپ لائن ، سندھ میں پائپ لائن میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔گیس کی لوڈشیڈنگ ختم میں کرنے میں شاہد خاقان عباسی کا کلیدی رول ہے۔کاروبار چلا، صنعتیں چلائی گئیں، گھروں میں چولہے چلے،اگر گیس شیڈنگ نہیں ہے تو اس کا کریڈٹ شاہد خاقان عباسی کو جاتا ہے۔نوازشریف نے ملکی قوم کے مفاد میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہونے دیا۔ گیس کی قیمتیں اوپر کے طبقات کیلئے بڑھائی گئیں، لیکن نچلے طبقات کو سہولت دی۔ آئی ایم ایف کا دباؤ اس وقت بھی تھا لیکن حکومت نے کوئی پریشر نہیں لیا۔ شہبازشریف نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی کو نوازشریف کا دلیر ساتھی ہونے پر گرفتار کیا گیا۔ راناثناء اللہ کو بھی انتہائی بھونڈے طریقے سے گرفتار کیا گیا۔ یہ احتساب نہیں ن لیگ کیخلاف بدترین سیاسی انتقام ہے۔ پاکستانی قوم جانتی ہے کہ جن لوگوں نے ملک کو آگے بڑھایا ،بڑے چیلنجز کو حل کیاان کو چن چن کرگرفتار کیا جارہا ہے۔اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے کہا کہ اس سے ملک کی پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہورہی ہے۔ ایک دن ایک وزیر کو عہدہ دیتے ہیں کہ اس نے بجٹ کے دوران اپوزیشن کو ننگی گالیاں دیں۔ اگلے دن اس کی وزارت واپس لے لیتے ہیں۔ٹیکسز کا جوکلہاڑا چلایا ، عوام نڈھال ہوچکے ہیں۔چند دن پہلے تاجروں کی ہڑتال کا ہمیں دوردور تک کوئی علم نہیں تھا۔ہم اس کا فائدہ اس لیے نہیں اٹھایا کہ ایوان والوں کو پتا چل جائے کہ اس میں سیاسی نہیں تاجروں کی ہڑتال ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here