نسل نو کی تعمیر بذریعہ ذہن و کردار سازی تحریر ۔ قاسم اقبال

0
203

نسل نو کی تعمیر بذریعہ ذہن و کردار سازی
تحریر ۔ قاسم اقبال
گزشتہ کچھ سالوں سے تعلیم اور تعلم کے شعبہ سے وابستگی کی وجہ سے معاشرے کے مختلف افراد سے گفت وشنید کے ساتھ ساتھ مختلف افراد کے رویے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں اور اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ ہم نسل نو کی تعمیر وترقی میں کس قدر غفلت کا شکار ہیں۔ بچوں کی دلچسپیاں اور ترجیحات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ کس طرح ہم نے اپنی نسل سے اپنی تہذیب و ثقافت کتنی آسانی سے نکال دی ہے ۔والدین بچوں کو مصروف رکھنے اور اپنی مشکلات آسان کرنے کے لیے ان کو موبائل فون پر کارٹون اور مختلف کلپ لگا کر دیتے ہیں جس سے بچوں کے اندر تخریب کاری ، من مانی، لڑائی جھگڑا، طنز و تنقید کے عناصر پروان چڑھتے ہیں۔ مثال کے طور پر Tom and Jerryہی لے لیں اس میں بار بار لڑائی جھگڑا، شرارت، چھیڑ چھاڑ کے پہلو نمایاں ہیں۔ اسی طرح تمام طرح کے کارٹون اور اس طرح کا مواد نسل نو میں کس طرح کے نقش اور عکس نمایاں کر رہا ہے؟
بچے اپنے آپ کو سپاہیڈر مین اور سپر مین جیسے کرداروں سے منسلک کرتے ہیں۔ شیوا جیسے ہندو کردار کی طرح بننے کا کہتے ہیں۔ اس طرح ہندوانہ رسم و رواج ہمارے معاشرے کے اندر سرایت کر رہے ہیں۔ہم موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے سے دین اسلام سے دوری اور بے راہ روی کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ہم نسل نو کی تعمیر بذریعہ ذہن و کردار سازی کے ساتھ کرنے کے لیے ایسا لائحہ عمل تیار کریں جس سے بچوں کی جسمانی تربیت کے ساتھ ساتھ روحانی کردار سازی بھی شامل ہو۔ مسجد میں نماز ادا کرنے کی کوشش خود بھی کی جائے اور اپنے بچوں میں بھی مسجد کا مزاج اور لگاؤ پیدا کیا جاے۔ موبائل فون کے بجائے کھیل کود میں مصروف رکھا جائے۔ محلے کے اجتماعی کاموں میں ان کو شریک کیا جائے۔ ایسی کمیٹی تشکیل دی جائے جو نسل نو کی تعمیر وترقی میں کردار ادا کرے۔ باہمی مشاورت کے ذریعے ایسی سرگرمیاں تشکیل دی جائیں جن میں بچے حصہ لیں۔
نسل نو کو سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیرت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بتائی جائے۔ مسلمانوں کے کارنامے ، شجاعت اور بہادری کے قصے سنائے جائیں۔ اس کے اثرات بہت زیادہ اور دیر تک یوں گے۔ اس محنت سے بچوں کی جسمانی تربیت کے ساتھ ساتھ روحانی کردار سازی بھی ہو سکتی ہے۔ تب ہی ہمارے بچوں کو اپنی تہذیب و ثقافت اور دین اسلام کے ساتھ ہم آہنگی پیدا ہو گی۔ ورنہ مغرب کی طرح لادینیت اور لیبرازم کی طرح صرف شمعیں روشن کرنے کی حد تک مردوں کو ایصال ثواب تک کام رہ جائے گا۔ اس سے قبل ہمیں جاگنا ہو گا۔ اور نسل نو کی تعمیر دینی نہج پر کرنی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ ایمان سلامتی اور استحکام دین عطا فرمائیں آمین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here