کیا مظلوم کو انصاف مل گیا؟

0
215

تحریر ۔رستم اجنالہ
رات کو خبر نامے میں ایک خبر سنی تو دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ کیا مظلوم کو انصاف مل گیا ہے؟ خبر کچھ اسطرح تھی کی سیالکوٹ کے دو بھائی جو کچھ سال پہلے سرعام روڈ پر ڈنڈے مار مار کر قتل کر دیے گئے تھے جس قتل کے سینکڑوں لوگ گواہ ہیں اور ویڈیو بھی موجود ہے دو بھائیوں کے قاتلوں کی سزائے موت ختم کر کہ ان کو دس سال کی سزا دے دی گئی ہے یہ عدالت کے کام ہیں کسی کو سزائے موت سنائے یا عمر قید یا پھر دس سال قید میں عدالت کے فیصلے پر بحث نہیں کر رہا وہ تو عدالت نے جو بہتر سمجھا کیا لیکن میرا سوال ہے اس معاشرے سے اس حکومت سے کہ کیا مظلوم کو انصاف مل گیا ہے ؟ان دو بھائیوں کے والدین جن کی گود سرعام بڑی بے دردی سے اجاڑ دی گئی تھی جب انہوں نے اج یہ خبر سنی ہو گی تو انکے دل پر کیا گذری ہو گی یہ خبر ان پر کیا قیامت بن کر نہیں گری ہوگی؟ وہ مظلوم والدین جن کے دو بچے چھین لیے گئے تھے ان والدین کی آنکھوں سے وہ منظر ختم نہیں ہو سکتے جو ویڈیو میں انہوں نے بھی دیکھے ہوں گے کہ ان کے بچوں نے کیسے تڑپ تڑپ کر جان دی ظالموں نے کس کس طرح ظلم کے پہاڑ توڑےتھے انکی آنکھوں سے ابھی آنسووں خشک نہیں ہوئے ہوں گے اور پھر کئی سال تک مقدمے لڑتے لڑتے کتنا خرچہ بھی کیا ہو گا بچوں کا نقصان بھی اٹھایا پیسہ بھی بہایا اور وقت بھی انصاف کے لیے لگایا اور فیصلہ جو ایا وہ قیامت بن کر ٹوٹا اگر ان بچوں کے والدین سے یہ سوال کر لیا جائے کہ کیا اپکو انصاف مل گیا ہے ؟ تو انکا جواب کیا ہو گا ہر بندہ اپنے اپکو ان لڑکوں کے والدین کی جگہ پر رکھ کر سوچھے تو ہر بندے کو اسکا ضمیر اس سوال کا جواب دے گا اب یہی سوال حکومت سے کیا جائے تو انکا جواب یہ ہو گا کہ ہر اداراہ آزاد ہے اور یہ عدلیہ کا فیصلہ ہے اس میں ہم کیا کر سکتے ہیں اور یہ سچ بھی ہے کہ یہ عدلیہ کا کام ہے لیکن حکومت کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں کیا وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے مثلاً حکومت کا کام ہے قانون بنانا تا کہ ملک میں لا قانونیت نہ ہو ملک میں امن ہو جرم نہ ہو اس بارے میں سخت سے سخت قانون بنائے جائیں کہ جرم کرنے والا سزا سےبچ نہ سکےکسی کو جرم کرنے کی ہمت ہی نہ ہو مجرم کو اسطرح سزا دی جائے کہ لوگ دیکھ کر عبرت حاصل کریں اور جرم کم سے کم ہوں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری حکومتوں کے پاس اتنا وقت ہی کہاں کہ وہ یہ کام کر سکیں اگر یہی صورت حال رہی اسی طرح انصاف ملا مظلوموں کو تو ملک میں شائید کبھی بھی امن نہیں ہو سکے گا اور یہ ملک وہ ملک کبھی نہیں بن سکے گا جس کا خواب ہمارے محبوب قائد قائد اعظم محمد علی جناح علامہ اقبال اور ہزاروں لوگ جنہوں نے اس ملک کو بنانے کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والوں نے دیکھا تھا خدا کے لیے مظلوم کا ساتھ دو یہ نہ ہو کہ مظلوم کی بددعا لے ڈوبے یہ حکومت یہ کرسی ہمیشہ کے لیے نہیں ہے اگر اس طرح ہوتا رہا تو ظالم ظلم کرتے رہیںگے اور مظلوم اپنا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیں گے اور پھر اللہ کا فیصلہ کیا ہو گا اللہ کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کرتا اللہ کی لاٹھی بڑی بے آواز ہے ڈرو اس وقت سے اللہ کاخوف پیدا کرو اپنے دلوں میں مجھے ایک مثال یاد آ رہی ہے کہ ایک دفعہ طوطا اپنی بیوی طوطی کے سات سفر کر رہا تھا کہ ایک بستی میں ایک درخت پر بیٹھے ہوئے تھے تو طوطا اپنی بیوی طوطی کو کہتا ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ اس بستی میں آلو بستا ہے جس کی وجہ سے یہ بستی برباد ہوگئی ہے اسی درخت پر آلو بیٹھا طوطےکی بات سن رہا تھا اور آلو اڑ کر طوطی اور طوطے والی شاخ پر بیٹھ گیا اورطوطے سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے کہ اپ میرے علاقے میں آئے ہیں بڑے عرصے بعد کسی کو دیکھا ہے اس بستی میں یہ بستی اجڑ چکی ہے اگر اپ رات کو یہاں میرے پاس رک جائیں تو مجھے خوشی ہو گی طوطے نے اپنی بیوی سے مشورہ کیا کہ آلو بڑا اصرارکر رہا کہ کیوں نہ ہم ایک رات اس کے پاس رک جائیں بیوی بھی مان گئی تو وہ طوطا اور طوطی نے رات اسی بستی میں گذارنے کا فیصلہ کر لیا رات کو آلو نے بڑی خاطر بھی کی انکی جب صبح ہوئی تو آلو طوطے سے کہنے لگا کہ یہ طوطی میری بیوی ہے طوطے نے کہا خدا کا خوف کرویہ تو میری بیوی ہے لیکن آلو نہ مانا آلو کہنے لگا شور مت کرو عدالت کھل چکی ہے وہاں سے فیصلہ کروا لو جب وہ عدالت پہنے تو عدالت نے کسی بھی وجہ سے طوطی آلو کی بیوی قرار دے دی طوطا بے بس و مجبور ہو کر واپس اپنے دیس جانےلگا تو آلو نے اواز دی کہ اپنی تو لیتے جاؤ طوطا بولا اب تو یہ قانونی طور پر بھی میری بیوی نہیں رہی اب تم ہی رکھو آلو طوطے کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ یہ تمھاری ہی بیوی ہے میں نے تو صرف تم کو یہ بتانا تھا کہ آلو کے آباد ہونے سے بستیاں برباد نہیں ہوتیں بلکہ جس بستی سے انصاف اٹھ جائے وہ بستیاں برباد ہوتی ہیں کہنے کو تو یہ کہاوت ہے لیکن یہ حقیقت بھی ہے خدا راہ ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اسکے قوانین بھی اسلامی ہونے چاہیں وہ قوانین جو قرآن اور حدیث کے قوانین ہوں اور اسلامی قانون کے مطابق تو ہم نے یہی سنا ہے کہ قتل کا بدلہ قتل ہے اب ضرورت ہے نظام بدلنے کی خدا کے لیے یہ نظام بدلواگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری دنیا اور آخرت سنور جائے تو اسلام کے مطابق اپنی زندگی کو گزاریں شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ

وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
ہم ذلیل و خوار ہوئے تاریک قرآن ہو کر

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here