آسمانی آفتیں اور امتحان تحریر چوہدری رستم اجنالہ

0
104

آسمانی آفتیں اور امتحان
تحریر چوہدری رستم اجنالہ
گذشتہ روز پاکستان میں اور آزاد کشمیر میں زلزلہ ایک بار پھر تباہی مچاتا ہوا ایا اور کچھ سیکنڈ میں ہی اپنے ساتھ بہت کچھ لے گیا زلزلے طوفان سیلاب یہ سب آسمانی آفتیں اور امتحان ہیں لیکن یہ اتنی خطرناک آفتیں اور امتحان ہیں کہ جس علاقے کا رخ کرتے ہیں تباہی اور بربادی ہی کرتے جاتے ہیں ان کی زد میں جو ایا برباد ہو گیا میں نے ایک جگہ پڑھا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسے کسی نے پوچھا کہ زلزلے کیوں آتے ہیں تو اپ نے فرمایا کہ جب عورتیں غیر مردوں کے لیے خوشبو استعمال کریں جب عورتیں غیر مردوں کے سامنے ننگی ہونے میں ججھک محسوس نہ کریں یعنی زنا عام ہو جائے جب شراب اور موسیقی عام ہو جائے تو زلزلے کی امید رکھنا یہ قول ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے اگر اب بھی ہم سمجھ نہ پائے تو تباہی اور بربادی ہی ہمارا مقدر بنے گی اور یہ اج ہر چیز ہمارے معاشرے میں عام ہوتی جا رہی ہے بازاروں گلیوں میں مسلمان عورتیں خوشبو لگائے عام گھوم رہی ہوتی ہیں زنا اور شراب عام ہوتےجا رہے ہیں اور موسیقی کو تو ہم نادان لوگ روح کی غذا قرار دے رہے ہیں اور موسیقی اجکل اتنی عام ہے کہ شائید ہی کوئی گھر اس لعنت سے پاک ہو اور تو اور اب معاذ اللہ مسجدیں بھی موسیقی سے محفوظ نہیں ہیں موبائل میں موسیقی والی ٹونز ہیں اور اگر نماز کے دوران ہی کوئی فون آ جائے تو ہر نمازی کا خیال بھی اس موسیقی کی طرف چلا جاتا ہے موسیقی اور آلات موسیقی سے ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم شدید نفرت کی ہے اور ہم نے موسیقی کو روح کی غذا قرار دے رکھا ہے افسوس ہے ہماری سوچ پر اس وقت پاکستان شدید مشکلات کا شکار ہے اور قدرت کی طرف سے امتحانات کی بھی زد میں ہے پورا پاکستان ڈینگی کا شکار ہو رہا ہے کراچی وغیرہ میں طوفان کی شکل میں امتحان جاری ہے تو فصلوں پر ٹیڈی کے حملوں کی صورت میں اور دشمن انڈیا سے دھمکیوں کی صورت میں اور ہمارے سیاستدان اپنی اپنی سیاست چمکانے کے چکر میں لگے ہیں اور ہم کو ابھی بھی سمجھ نہیں آرہی ہےاللہ ہم کو ان تمام امتحانوں آفتوں سے ہم کو محفوظ فرمائے آمین اس زلزلے میں بھی کچھ لوگوں کا جانی نقصان ہوا اور کچھ کامالی نقصان ہوا نقصان تو نقصان ہی ہوتا ہے جانی ہو یا مالی اس زلزلے نےچند سکینڈ میں ہی بہت سے لوگوں کو گھر سے بے گھر کر دیا بہت لوگو سے والدین چھین لیے یہ زلزلہ بہت لوگوں سے انکے بچے چھین کر لے گیا یقیناً یہ افسوس کا مقام ہے اس وقت مشکل کی اس گھڑی میں ہمیں اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ ہونا چائیے حکومت آزاد کشمیر اور حکومت پاکستان اور تمام سیاسی و سماجی لوگوں کو اس مشکل وقت میں متاثرہ خاندانوں کی ڈھارس بننا چاہیے لیکن افسوس ہوتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر آسمانی آفتوں کا بھی مذاق اڑاتے ہیں افسوس اس بات کا ہے کہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان سے تعلق رکھتے ہوئے بھی یہ سمجھ نہیں پا رہے کہ اللہ کی طرف سے جو عذاب ہم پر آرہے ہیں ہمیں انکا مذاق نہیں اڑانا بلکہ یہ ہمارے عمال کا نتیجہ ہے ہم کو اللہ تعالی سے معافی مانگی چاہیے اگر غور کیا جائے کہ پاکستان میں اس وقت کونسا گناہ ایسا ہے جو نہیں ہو رہا آئے روز اغوا قتل چوری ڈاکے زنا بے حیائی ناچ گانا ہر وہ کام جس سے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے وہ ہم کر رہے ہیں اور وہ بھی علانیہ کر رہے ہیں پھر کہتے ہیں کہ یہ آفتیں زلزلے سیلاب طوفان کیوں آتے ہیں اگر ہر بندہ اپنے اپ سے سوال کر لے کہ کیا تو اس قابل ہے کہ اللہ تجھے رزق دے اور تو اس قابل ہے کہ جو نعمتیں تجھے عطا کی گئی ہیں تجھے وہ عطا کی جائیں تو میرا نہیں خیال کہ دو فیصد لوگوں کا بھی ضمیر یہ جواب دے سکے کہ ہاں تو ان نعمتوں رحمتوں کا حقدار ہے جو تجھے عطا کی گئی ہیں جھوٹ غیبت چغلی چوری ناپ تول میں کمی دھوکہ دینا فراڈ کرنا تو اجکل ہم گناہ ہی نہیں سمجھتے اور سوشل میڈیا پر تو کسی پر تومت لگانا ہم اپنا حق سمجھتے ہیں جب گناہ کو گناہ سمجھتے ہی نہیں تو توبہ یا معافی کیسے مانگیں گے نماز ہم پڑھ نہیں پاتے روزہ نہ رکھنے کے لیے حجتیں ہم بناتے ہیں بلکہ جونماز پڑھتا ہے قرآن پڑھنے جاتا ہے اس کی تزلیل کرتے ہیں اس کو معاشرے میں وہ مقام ہی نہیں دیتے جس کا وہ اصل حقدار ہے اور پھر بھی شکوے اللہ سے کرتے ہیں کہ کیا یہ ساری مصیبتں ساری تکلیفیں ہمارے لیے ہی ہیں ہمیں شکوے کرنے کی بجائے اپنے گناہوں کی رو رو کر توبہ کرنی چاہیے اور جو امتحان ایا ہے اس پر صبر کرنا چاہیے بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اللہ آسمانی آفتیں بھیج کر توبہ کا موقعہ دتیا ہے کہ انسان سمجھ جا ابھی وقت ہے اور تھوڑا بہت نقصان کر کہ صبر کا موقعہ دیتا ہے کہ کس نے میرے امتحان میں ڈالنے کے باوجود صبر کیا ۔ اج پھر وقفے وقفے سے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں انکی شدت بھی چار اشاریہ چار بتائی جا رہی ہے اللہ ہم کو تمام آفتوں امتحانات سے نجات عطا فرمائے آمین میرا یہ کالم جس اخبار میں پڑ ہیں تو پڑھنے کے بعد اس اخبار کو بے حرمتی سے ضرور بچائیں کیوں کہ اس میں بے شمار بار اللہ تعالی کا نام لکھا گیا ہے اللہ ہم کو اپنے نام کی تعظیم کے صدقے تمام مشکالات سے بری کر دے آمین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here