ایک شام قاضی جاوید کے نام

0
82

ایک شام معروف کالم نگار قاضی جاوید کے نام سکرنڈ (رپورٹ گل محمد لغاری )شمع نیوز نوابشاہ
سکرنڈ ھمدرد سپورٹ پروگرام کے چیئرمین , معروف کالم نگار و سماجی شخصیت قاضی جاوید سنائی کے اعزاز میں ,ایک شام قاضی کے نام, کی پروقار تقریب سکرنڈ پریس کلب میں منائی گئی تقریب میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی اس موقعہ پر خطاب کرتے ھوئے ممتاز دانشور و محقق محمد صدیق منگیو نے کہا کے لکھنے اور بولنے کی صلاحیت کا ھونا جھاں ایک خداداد صلاحیت ھے وھاں ایک فن بھی ھے اور میں سمجھتا ھوں کے قاضی جاوید میں یہ دونوں خوبیاں پائی جاتی ھے جبکہ ان کی سماجی خدمات قابل ستائش ھیں ھمیں اس بات پہ فخر ھے کے قاضی جاوید ھمارا حصہ ھیں . معروف لکھاری عبدالتواب شیخ نے کھا کے صحافت صحیفے سے نکلا ھے اگر دیکھا جائے تو یہ ایک عبادت بھی ھے اور خدمت بھی لیکن شرط دیانتداری ھے جو قاضی خاندان میں پائی جاتی ھے اسی خاندان کا تسلسل قاضی جاوید بھی ھے ڈی ایس پی موٹر وے جی ایم بلوچ نے کھا کے ڈیوٹی کے دوراں مختلف مقامات پر تعیناتی ھوتی رھی کئی لوگوں سے واسطہ و رابطہ رھا لیکن اس میں کوئی دو رائے نھیں کے بلا شبہ قاضی جاوید ایک نمایاں کردار ھے جن کی خدمت کے کئی پلیٹ فارم ھیں. سی ڈی ایف کے چیئرمیں عبدالحمید آرائیں نے کہا کے زندگی میں ھی اگر کسی متحرک کردار کو اعزاز ملے تو یہ ان کے لئے قابل فخر ھے . معروف سوشل ورکر نیاز لاشاری نے کھا کے اگر پورے سندھ پے نظر دوڑائی جائے تو قاضی جاوید جیسے کردار بھت کم نظر آئینگے جن کی خدمات مختلف زاویوں سے پائی جاتی ھیں صحافت ھو یا سماجیات دینی معاملات ھوں یا فلاحی خدمات برادری تصفیحے ھوں یا کاروباری مسائل انھیں ھر جگہ متحرک دیکھا جو انھی ھی کا خاصہ ھے. سومرا اتحاد کے رھنما جاوید سومرو نے کہا کہ سکرنڈ کا قاضی خاندان جو گذشتہ سات دھائیوں سے صحافت و سماجی خدمات کر رھا ھے یہ ایک تاریخ ھے کیونکہ تسلسل کو برقرار رکھنا بھی ایک اعزاز ھے آخر میں قاضی جاوید سنائی نے اپنے صدارتی خطبے میں کھا کے مقرر مھمانوں نے میرے متعلق جو رائے رکھی میں اسے اپنے لئے اعزاز سمجھتا ھوں جس میں تعریفی کلمات کے ساتھ مشورے بھی شامل تھے میں کوشس کرونگا کے استقامت کے ساتھ سینئر دوستوں کے مشوروں پہ عمل کر کے مزید بھتری کی طرف قدم بڑھائوں باقی تو مزید اگر بولوںگا تو اپنے موں میاں مٹھو والی بات ھوگی لیکن ایک بات ضرور کہونگا کہ میرے گھر دو اور بھائی کے گھر تین ٹوٹل پانچھ بچے معزور تھے جن کی چالیس سال خدمت و علاج کیا جو اللہ کو پیارے ھوگئے دکھ درد کو قریب سے دیکہا ھے جس سے ذھن بنا کے زندگی غموں کو دور کرنے یا بانٹنے میں گزارنی ھے یھی سوچ لئے جی رھا ھوں.اللہ قبول فرمائے تقریب سے سینئر صحافی مسعود احمد عمرانی, رضا محمد سیال اور میر محمد کیریو نے بھی خطاب کیا تقریب کے اختتام پے سینئر صحافی کنور ظفر عبدالحئی نے ایک نظم قاضی کے نام کی جو انھوں نے پڑھ کے سنائی دوران تقریب آئے ھوئے مھمانوں نے قاضی جاوید کو اجرک . ھار اور پہولوں کے تحائف نیک تمنائوں کے ساتھ پیش کئے.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here