یہ جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے تحریر ۔چوہدری رستم اجنالہ

0
355

یہ جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
تحریر ۔چوہدری رستم اجنالہ
آج کل پوری دنیا میں بھی کرونا وائرس کی وجہ سے افراتفری پھیلی ہوئی ہے رات کو نیوز میں سن رہا تھا کہ ایران میں ہر دس منٹ بعد اس وائرس سے ایک جان جا رہی ہے اور کل اٹلی میں چوبیس گھنٹوں میں چھ سو سے زیادہ لوگ اس وائرس کا شکار ہو کر موت کی وادی میں چلے گے ہیں اٹلی کا ہیلتھ سسٹم پوری دنیا میں دوسرے نمبر پر اتا ہے اس کے باوجود وہ اس وائرس کو کنٹرول کرنے میں بھری طرح ناکام ہو گیا ہے سننے میں آرہا ہے کہ وہاں مردوں کو دفنانے میں دقّت ہو رہی ہے جگہ کم پڑھ گئی ہے جنازہ نہیں پڑھا جا رہا میتوں کو اٹھانے کے لیے گاڑیاں نہیں ہیں اس کام کی لیے آرمی کی مدد لی گئی ہے اور آرمی کی گاڑیاں لاشوں کو لے جا رہی ہیں لوگ اپنے پیاروں کو نہ دفنا سکتے ہیں نہ آخری دیدار کر سکتے ہیں اور نہ ہی انکی کسی آخری رسومات میں شرکت کر سکتے ہیں اس سے بڑی بد نصیبی کیا ہو گی کہ کسی مسلمان کو نہ کفن پہنایا جائے نہ جنازہ پڑھا جائے اور نہ کسی عزیز کو آخری دیدار کر نے کی اجازت ہو اور نہ ہی دفنانے کی ۔ یہ نشان عبرت ہے اس سے ہمیں عبرت حاصل کرنا چاہیے نہ کہ اب بھی آنکھیں بند کر لینی چاہیے افسوس سے کہنا پڑھتا ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا پر اج بھی اس قوم کو مذاق سوجھ رہے ہیں کوئی اس وائرس کو بنیاد بنا کر سیاسی لوگوں پر تنقید کر رہا ہے تو کوئی مزارات کا مذاق کر رہا ہے کوئی ماسک ذخیرہ کر کہ اپنی کم ظرفی کا مظاہرہ کر رہا ہے تو کوئی ماسک فری تقسیم کر کہ اس کی تشہیر کر رہا ہے لیکن افسوس کہ کوئی بھی ابھی تک موت کو یاد کر کہ عبرت حاصل کرنے کے چکر میں نہیں ہے بہت سارے ملکوں میں مساجد نمازوں کے لیے بند کر دی گئی ہے جمعے کی نماز بھی بند ہے اس اتنے بڑے عذاب کے باوجود بھی ہم انسان نہیں بن سکے اور ہم اپنے اپ کو مسلمان کہتے ہیں بنی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مسلمان ایک جسم کی ماند ہیں اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو پورے جسم کو تکلیف ہوتی ہے ۔لیکن افسوس ہم اج تک شائید اچھے انسان نہیں بن سکے مسلمان تو دور کی بات ہے ۔کشمیر میں اتنے عرصے سے لوگ گھروں میں بند تھے انکا ہم کو احساس نہ ہوا تو اللہ نے ہم کو بھی بلکہ پوری دنیا کو گھروں میں بند کر دیا اگر کشمیری مسلمانوں فلسطینی مسلمانوں کو مسجدوں میں نماز کی اجازت نہیں تو اللہ نے ہم سے بھی اس نعمت فضیلت کو چھین لیا ہے اللہ نے ہم کو بھی اس با برکت کام سے مرحوم کر دیا ہے اور ہم اج بھی مذاق کر رہے ہیں ہماری آنکھوں پر کیوں پردے پڑ چکے ہیں اور ہمارے ترانے ہیں ہم زندہ قوم ہیں ہم پائندہ قوم ہیں کاش ہم زندہ قوم بن پاتے ہمارا وجود پائندہ قوموں میں ہوتا جو اج تک نہیں ہو سکا ۔یہ دنیا جگہ جی لگانے کی نہیں عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے ۔ خدا راہ اب سمجھ جانا ہو گا ہم کو کہ ہمیں عذاب خدا کا مذاق نہیں اڑانا ۔ہمیں بزرگان دین کا مذاق بھی اڑانا ۔ہمیں بےجا تنقید نہیں کرنی ۔اب ہم کو دین اسلام میں پورا پورا داخل ہونا ہے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرنا ہے اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی ہے اور اس فانی دنیا میں ہمیشہ رہنے کا سامان نہیں کرنا بلکہ اگلی ہمیشہ رہنے والی دنیا کے لیے سامان پیدا کرنا ہے ہمیں انسان بن کر اچھا مسلمان بننا ہے اگر ہم کامیابی چاہتے ہیں تو ہم کو اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرنا ہو گا ۔یہ نہ ہو کہ اللہ ہم کو بھی برباد کر دے جیسے پہلی قوموں کو عذاب کا مذاق کرنے پر برباد کر دیا تھا ۔یہ کرونا وائرس کا عذاب دیکھا کر اللہ بتا رہا ہے کہ سب کچھ میری مرضی ہے جسم بھی میں نے دیا ہے تم کو اور مرضی بھی میری چلے گی ۔اب ہم کو عبرت حاصل کرنا ہو گی ورنہ ۔
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے مسلمانو ۔تمھاری داستاں تک نہ رہے گی داستانو میں ۔
اللہ ہم سب پر اپنا رحم و کرم فرمائے اللہ ہم کو اسلام کے اصولوں پر چل کر زندگی گذارنے کی توفیق عطا فرمائے ہم کو ہر قسم کے عذاب سے محفوظ فرمائے اور ایمان پر سلامت رکھے اور ایمان پر موت نصیب فرمائے آمین ۔اگر تحریر اچھی لگے تواگے شئیر ضرور کریں جزاک اللہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here