گھبرانا نہیں موت سے تحریر چوہدری رستم اجنالہ

0
235

گھبرانا نہیں موت سے
زبان حلق تحریر چوہدری رستم اجنالہ

الحمد اللہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ موت ایک دن ضرور آنی ہے آج پوری دنیا میں کرونا کی وجہ سے عوام خوف و ہراس میں مبتلا ہے میں اج بیٹی کے لیے دوائی لینے کے لیے گھر سے نکلا تو سوچا پیدل ہی جاتا ہوں تھوڑی واک ہی ہو جائے گی میں گھر سے نکلا تو میری ایک مائی اور بابے پر نظر پڑی کہ وہ فٹ پاتھ پر چل رہے تھے جب ان کی نظر مجھ پر پڑی تو وہ لنک روڈ پر کھڑے ہو گے اور انتظار کرنے لگے کہ میں گذر جاوں پھر وہ اپنا سفر جاری رکھیں گے میں جب گذر گیا تو وہ روڈ پر آئے تھوڑا آگے گیا تو سامنے سے ایک عورت آ رہی تھی جب اس نے مجھے دیکھا تو اس نے روڈ کراس کر کہ اپنا راستہ ہی تبدیل کر لیا اس کے بعد ایک اور فیملی آ رہی تھی اس نے بھی روڈ کراس کر لیا ۔میں سوچنے لگا کہ عوام میں بہت خوف پایا جا رہا ہے اور لوگ بہت زیادہ احتیاط کر رہےہیں۔ اور ان حالات میں کرنی بھی چاہیے لیکن میں سوچ میں پڑھ گیا کہ یہ آخر خوف ہے کس چیز کا کرونا وائرس کا کہ کہیں ہم اس کا شکار نہ ہو جائیں ۔یہ سچ ہے کہ عوام کرونا سے موت کے خوف سے مکمل گھبرائی ہوئی ہےلیکن ہم مسلمانوں کو گھبراہٹ کیسی مرنا تو آخر ایک دن ہے ہی نا لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ بھی نہیں کہ ہم کہیں کہ مرنا تو ہے ہی نا پھر احتیاط کیوں کریں اگر احتیاط نہیں کریں گے تو وہ خود کشی کے مترادف ہو گا میرا خیال ہے کہ ہمیں گھبرانا نہیں چاہیے موت سےبلکہ ہم کو گھبرانا چاہیے بری موت سے ۔برے خاتمے سے ہم کو گھبرانا اس بات پر چاہیے کہ ہم نے جتنی زندگی گذار لی ہے اس میں قبر اور حشر کے امتحان کی کیا تیاری کی ہے ۔ ذرہ سوچئے کہ ہمارا کل امتخان ہو تو کوئی ہمیں بتائے کہ کل جو تمھہارا امتحان ہونا ہے اس میں یہ یہ سوال آئیں گے تو ہم ساری رات نہیں سوئیں گے کہ سوالوں کا پتہ چل گیا ہے انکے جوابات تیار کر لیں ساری رات جاگ کر ہم اس امتحان کی تیاری کریں گے ۔لیکن افسوس کہ ہم کو قبر اور حشر کے دن کے سوالات بتا دیے گے ہیں اس کے باوجود ہم ان کی تیاری نہیں کر رہے ابھی بھی غفلت کی نیند سو رہے ہیں بھائیو غفلت کی نیند چھوڑ دو یہ نہ ہو کہ جب بیدار ہوں تو وقت ختم ہو گیا ہو مجھے ایک حکایت یاد آ رہی ہے کہ ایک بندے کو قیمتی ہیرا کہیں سے ملا تو وہ بادشاہ کے پاس لے کر گیا تو بادشاہ نے جواہری سےاس ہیرے کی قیمت کا پوچھا تو وہ بولا بادشاہ سلامت اس ہیرے کی قیمت کوئی نہیں دے سکتا سوائے بادشاہ کے تو بادشاہ نے حکم دیا کہ خزانوں کے دروازے کھول دیے جائیں ایک گھنٹے تک یہ بندہ جیتا مال لے جا سکے لے جائےوہ اس ہیرے کی قیمت ہو گی وہ غریب بندہ خوش ہوا خزانوں کے دروازے کھول دے گے اور بادشاہ کے سپاہیوں نے اس سے کہا کہ ایک گھنٹے میں جو لے جا سکو لے جاؤ وہ بندہ جب کمرے میں داخل ہوا تو ہر طرف ہیرے جواہرات مال سونا پیسے تھے اتنے میں اس غریب شخص کی نظر بادشاہ کے بیڈ پر پڑی وہ شخص اس کی طرف بڑا تو خواہش پیدا ہوئی کہ میں زرہ اس پر لیٹ جاؤں تا کہ لوگوں کو بتاؤں گا کہ میں بھی بادشاہ کے بیڈ پر لیٹا تھا وہ اس شوق میں بیڈ پر لیٹا تو وہ بادشاہ کا بیڈ بے حد نرم اور آرام دہ تھا اس شخص کو نیند آ گئی وہ سو گیا ادھر جب گھنٹہ پورا ہوا تو بادشاہ کے سپاہی کمرے میں داخل ہوئے تو اس کو اٹھایا اور باہر نکالنے لگے وہ کہنے لگا کہ میں نے تو ابھی کچھ لیا ہی نہیں ہے تو سپاہی بولے جو وقت دیا گیا تھا تم کو وہ ختم ہو گیا ہے وہ کہنے لگا کوئی ایک ہیرا تو لے لینے دو کچھ سکے ہی اٹھا لینے دو لیکن سپاہیوں نے زبردستی اسکو اس کمرے سے نکال دیا تو وہ خالی ہاتھ ہی واپس ایا اور اس وقت کو پچھتانے لگا کہ وہ کیوں غفلت میں پڑا اور وہ قیمتی وقت کیوں ضائع کر دیا جو قدرت نے اس کو امیر ہونے کے لیے دیا تھا۔ اے میرے مسلمان بھائیوں بہنو دوستوں ہم کو غفلت کی نیند سے بیدار ہونا چاہیے ایسا نہ ہو کہ ہمارا وقت ختم ہو جائے اور موت کا فرشتہ آ جائے اور ہم غفلت کی نیند سو رہے ہوں تو پھر ایک بھی نیکی کا موقع نہیں دیا جائے گا۔یہ نہ ہو کہ جو اللہ نے ہم کو قیمتی وقت دنیا میں آخرت کے خزانوں کے لیے جنت جیسے خزانے کے لیے دیا ہے وہ ہم غفلت میں گذار دیں تو پھر پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا جو وقت ہم کو دیا گیا تھا اس میں سے کافی حد تک گذار چکے ہیں اور زیادہ غفلت میں ہی گذارا ہے اب گبھرانے کا وقت ہے زرہ گھبرائیں ۔موت سے نہیں بلکہ قیمتی وقت کے ضائع کرنے پر۔ زرہ گھبرائیں اس پر کہ جو رہ گیا ہے اس وقت کو کیسے گذارناہے ؟ زرہ گھبرائیں کہ ہم نے اس وقت میں قیمتی خزانہ کیسے حاصل کرنا ہے؟اے اللہ ہم کو آخرت کی فکر کرنے کی توفیق عطا فرما ہم کو اس دنیا میں رہ کر اس قیمتی وقت میں اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرنے کی توفیق عطا فرما ہم قبر اور حشر کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرما ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرما ہمارے تمام گناہوں کی معافی عطا فرما اور ہم سے راضی ہو جا ہر قسم کے عذاب سے محفوظ فرما اور ہمارے پیارے ملک پاکستان کی حفاظت فرما آمین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here