مصطفی کمال کی ہر بات آج سچ ثابت ہوئی محمد رضا۔مرزا فیصل

0
84

لندن ( پ ر)پاک سرزمین پارٹی کے مرکزی سنیئر جوائنٹ سکریٹری محمد رضا اور پاک سرزمین پارٹی برطانیہ کے سنیئر نائب صدر مرزا فیصل محمود نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال کی ایک ایک بات آج سچ ثابت ہو گئیں الطاف حسین را کے ایجنٹ اور انسانیت کے قاتل ھیں پاک سرزمین پارٹی نے ایم کیوایم کی لاشوں کی سیاست کو ھمیشہ ھمیشہ کے لئے دفن کر دیا پاک سرزمین پارٹی کے 4 سالہ کارکردگی کا آج یہ نتیجہ ھے کہ آج کراچی میں امن ھے جہاں روزانہ ٢٠ سے ٣٠ لاشیں ملتیں تھیں۔ اور اسلام ھمیں یہ درس دیتا ھے جس نے ایک انسانی جان کو بچایا گویہ اس نے تمام انسانیت بچایا۔عمران فاروق قتل کیس کی ججمنٹ آنے کے بعد یہ ثابت ہو گیا عمران فاروق کے قتل میں بانی ایم کیو ایم کے علاوہ ایم کیو ایم کے سنیئر رہنما محمد انور بھی ملوث ھیں اور قوم کو اچھی طرح یاد ھے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے بعد بانی ایم کیو ایم کس طرح مگر مچھ کی طرح آنسو بہا رھے تھے اور محمد انور کس طرح بانی ایم کیو ایم کے آگے جی حضوری کرتے ہوئے جی بھائی جی بھائی کی گردان پڑھ رھے تھے وہ بھی قوم کے سامنے آشکار ہو چکی ھے اور محمد انور نے آپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہتے ھیں کہ وہ انڈین ایجنٹ نہیں ھیں تو موصوف سے سوال ھے کیا را جو انڈین ایجنسی ھے کیا وہ انہیں اور بانی ایم کیو ایم اور محمد انور کو محب وطن پاکستانی ہونے پر وظیفہ دیتی تھی۔ اور محمد انور کہتے ھیں کہ وہ ایم کیو ایم کی پارٹی لاین ( جو پاکستان کے خلاف تھی) فالو کر رھے تھے۔ محمد انور اگر محب وطن پاکستانی ہوتے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کوئی بھی پارٹی وطن سے مقدم نہیں ہوتی ۔محمد انور نے سانحہ کراچی 12 May پر بھی روشنی ڈالنا چاہتے ھیں اور دیگر رازوں سے پردہ اٹھانا چاہتے ھیں تو انہیں چاھیئے کہ وہ اپنے آپ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے پیش ہونے کے لیے پاکستان آئیں اور تمام رازوں سے پردہ اٹھاتے ہوے توبہ کریں۔ عمران فاروق قتل کیس کی تحقیقات کے بعد یہ ثابت ہو گیا کہ بانی ایم کیو ایم کی جماعت دھشت گرد جماعت ھے جو اپنے کارکنان کو تو کیا اپنے سنیئر لیڈر کو بھی مروا نے سے نہیں بچتی اور ایم کیو ایم لندن اور ایم کیو پاکستان ایک ھی سکہ کے ٢ رخ ھیں اور ایم کیو ایم پر مکمل پابندی لگنی چاھیئے ۔ مزید کہا کہ ان تمام چیزوں سے پردہ اٹھانے کے لئے سابق گورنر عشرت العباد کو بھی شامل تشویش کرنا چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here