کسی پائلٹ کے پاس جعلی لائسنس نہیں، سی اے اے

0
87

ڈائریکٹری جنرل (ڈی جی) سی اے اے حسن ناصر جامی اور سیکریٹری ایوی ایشن نے اومان ایوی ایشن کے سربراہ کے نام ایک خط تحریر کیا ہے، جس میں اعتراف کیا گیا کہ سی اے اے پاکستان کی جانب سے پائلٹس کو جاری کردہ کوئی لائسنس جعلی نہیں ہے، پروسیجر میں بعض خامیوں کی نشاندہی ہوئی ہے جنہیں دُور کیا جارہا ہے۔خط میں وضاحت کی گئی کہ پاکستانی پائلٹس کو جاری کردہ تمام لائسنسز کا فارنزک کرلیا گیا۔یورپی ایجنسی نے سی اے اے سے پائلٹوں کے لائسنس اور کارروائی پر رپورٹ طلب کرلی اس خط میں کہا گیا کہ لائسنسنگ کے لیے کمپیوٹر پر ہونے والے امتحانات میں کچھ تضادات اور مسائل موجود ہیں اور ایسے پائلٹ جن کے لائسنس پر معمولی سا سوالیہ نشان بھی تھا، انہیں مشتبہ قرار دے کر گراؤنڈ کر دیا گیا اور وضاحت طلب کی گئی ہے۔سی اے اے کو یو اے ای، ملائشیا، ترکی، ویتنام، بحرین اور ہانک کانگ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ایئرلائنز کی جانب سے 104 پائلٹس سے متعلق سوالات موصول ہوئے۔ان میں 96 پائلٹس کے لائسنس کی تصدیق مکمل ہوچکی ہے، باقی 8 پائلٹس کے لائسنس کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔ ویتنام کی ایوی ایشن اتھارٹی نے پاکستانی پائلٹس گراؤنڈ کردیئےخط میں ڈی جی سی اے اے ناصر جامی نے واضح کردیا کہ پائلٹس کو جاری کردہ تمام لائسنس اصلی اور درست ہیں۔وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے دعویٰ کیا تھا کہ تیس فیصد پاکستانی پائیلٹس کے لائسنس جعلی ہیں۔تاہم ڈی جی پاکستان سی اے اے نے اپنے خط میں کہا کہ جعلی لائسنس سے متعلق خبریں میڈیا اور سوشل میڈیا میں غلط طریقے سے پیش کی گئی ہیں۔بشکریہ روزنامہ جنگ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here