بھارت کو ایران نے اکیلا چھوڑ دیا

0
60

بھارت لداخ میں چین کے ساتھ سرحدی تنازع میں پھنسا ہوا ہے نیپال نے بھی نئے نقشے جاری کر کے بھارت کے ساتھ اپنی سرحد پر تین علاقوں پر خود مختاری کا اعلان کر دیا ہے۔ بنگلہ دیش پہلے ہی چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شامل ہو چکا ہے۔ ایسے میں نئی دہلی کے لئے تہران کی جانب سے بھی بری خبر سامنے آئی ہے۔ نئی دہلی جو چاہ بہار بندرگاہ کو گوادر کے مقابلے میں لا کر پاکستان اور چین کے منصوبے کو ناکام بنانے اور افغانستان اور وسطی ایشیا کے لیے نئی تجارتی راہ داری کے خواب سجائے بیٹھا تھا۔ اسے چاہ بہار زاہدان ریل منصوبے سے تہران نے نکال باہر کیا ہے۔ چاہ بہار زاہدان ریل منصوبہ افغانستان کے لیے نئی تجارتی راہ داری کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایران، چین اقتصادی اور سکیورٹی معاہدے کو تہران کے اس اقدام کا محرک سمجھا جا رہا ہے جو درست ہے لیکن اس کے ساتھ کئی دیگر عوامل بھی کارفرما ہیں۔

بھارت نے چاہ بہار منصوبے پر سرمایہ کاری کی تو اس کا مقصد پاکستان کو افغانستان اور وسطی ایشیا کے تجارتی روٹ سے نکال باہر کرنا اور گوادر بندرگاہ کو ناکام بنانا تھا، لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نومبر میں دوسری مدت کے انتخاب کے الیکشن سے پہلے امریکی افواج کو ہر صورت افغانستان سے نکالنا چاہتے ہیں تاکہ وہ الیکشن مہم میں عوام کو بتا سکیں کہ انہوں نے اپنی پہلی مدتِ انتخاب کے لیے کئے گئے وعدوں میں سے زیادہ تر پورے کر دیئے ہیں۔ اس مقصد کے لیے امریکا نے امسال فروری کے اواخر میں جلد بازی میں افغان طالبان کے ساتھ ایک امن معاہدہ کیا تھا۔ یہ معاہدہ کئی لحاظ سے مستقبل میں افغان طالبان کے اقتدار کی راہ ہموار کرتا ہے۔ افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کی صورت میں بھارت کو افغانستان میں اپنے مقاصد پورے ہوتے نظر نہیں آ رہے۔ دوحہ امن معاہدے کے بعد افغان طالبان کا افغانستان میں اثر پہلے ہی بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایسے میں بھارت کو افغانستان کی بنیاد پر کی گئی تمام سرمایہ کاری ضائع ہوتی نظر آرہی تھی اور بھارت نے چاہ بہار زاہدان ریل منصوبے کے فنڈز روک رکھے تھے تاکہ توقف کر کے یہ دیکھ سکے کہ حالات کیا کروٹ بدلتے ہیں۔ تہران نے فنڈ میں تاخیر کو جواز بناتے ہوئے نئی دہلی کو منصوبے سے نکال باہر کیا ہے۔ اس طرح بھارت کو اس خطے میں اپنے مفادات کے حوالے سے شدید دھچکا پہنچا ہے اور سی پیک کی اہمیت و افادیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

بھارت نے چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے پاکستان کو افغانستان اور وسطی ایشیا کے تجارتی روٹ سے مائنس کرنے کے لیے افغان صوبے نمروز میں ایرانی سرحد سے ملحق قصبے دلرم سے قندھار ہرات ہائی وے کو ملانے والی ایک سو پینتیس کلومیٹر طویل سڑک بنائی تھی۔ یہ سڑک ایران کو افغانستان اور باقی ایشیا سے ملانے کے لیے اہم ہے اور اسے روٹ 606 کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ افغان طالبان کے ساتھ امریکی معاہدے میں ایک رکاوٹ جنرل قاسم سلیمانی بھی تھے، جنہیں امریکا نے ایک ڈرون حملے میں شہید کیا۔ قاسم سلیمانی ایران کی با اثر ترین القدس فورس کے سربراہ تھے اور بھارت کے قریب تصور ہوتے تھے۔ پاکستان کے حوالے سے بھی قاسم سلیمانی کا رویہ سخت تھا اور وہ پاکستان پر الزام تراشی سے گریز نہیں کرتے تھے۔ بسا اوقات قاسم سلیمانی کا لہجہ اور الفاظ بھارتی لیڈروں جیسے ہوتے تھے۔ قاسم سلیمانی کا قتل بھارت کے لیے نیک شگون نہیں تھا اور اس کے قتل کے بعد سے بھارت ایران میں مزید سرمایہ کاری کے حوالے سے محتاط ہو گیا تھا۔

قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد ہی ایران نے خطے کے مسائل کے حل کے لیے پانچ ملکی تنظیم بنانے کی تجویز دی تھی اور اس پانچ ملکی تنظیم کو گولڈن رنگ کا نام دیا تھا۔ اس پانچ ملکی تنظیم میں ایران کے علاوہ پاکستان، ترکی، روس اور چین کو شامل کیا جانا تھا۔ قاسم سلیمانی کے قتل کے ایک ماہ بعد اسلام آباد میں تعینات ایران کے سفیر سید محمد حسینی نے چاہ بہار اور گوادر کو لنک کرنے کی بھی تجویز دی تھی۔ یہ تجویز چاہ بہار کے لیے بھارت کے سہ فریقی بندوبست کے برعکس تھی۔ جنرل قاسم سلیمانی، جو بھارت کے لیے ایک اثاثہ تصور ہوتے تھے، کی موجودگی میں بھارت کی تمام تر سفارتی کامیابیوں کا یوں لپیٹے جانا ممکن نہیں تھا۔

ایران کے اس اقدام کے پیچھے ایک اور محرک چین کے ساتھ 25 سالہ اقتصادی، سکیورٹی اور سٹریٹیجک معاہدہ ہے، جس کا حجم 400 ارب ڈالر بتایا جا رہا ہے۔ ابھی یہ معاہدہ فائنل نہیں ہوا، ایران کی پارلیمنٹ سے اس کی منظوری باقی ہے جبکہ چین بھی ابھی تک اس پر خاموش ہے۔ یہ معاہدہ ہونے کی صورت میں چین کو ایران میں فوجی اڈے بھی مل جائیں گے۔ ایران کی طرف سے کیش آئی لینڈ چین کو فروخت کئے جانے کی خبریں بھی آئیں لیکن ایران ان کی تردید کر چکا ہے؛ تاہم چین کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کی صورت میں ایران چین کو اس جزیرے پر فوجی اڈہ بنانے کی سہولت دے سکتا ہے۔ یہ جزیرہ آبنائے ہرمز کے دہانے پر ہے اور سٹریٹیجک اعتبار سے خاصی اہم ہے۔ ایران کے راستے چین کو یورپ تک زمینی راستہ بھی مل جائے گا اور ایرانی بندر گاہوں کے ذریعے گلف، بحیرہ اسود اور وسیع علاقے تک چین کی رسائی آسان ہو جائے گی۔

دنیا بھر میں ایران میں روس کے بعد سب سے زیادہ قدرتی گیس کا ذخیرہ ہے۔ خام تیل کے معاملے میں بھی ایران سعودی عرب کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ سکیورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ اس معاہدے کے ذریعے چین سعودی عرب کی اجارہ داری کو چیلنج کرنا چاہتا ہے اور ایران کو اس کے متبادل کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔ اس معاہدے کی وجہ سے خلیجی خطے میں بھی تبدیلی آئے گی۔ ایران اور چین کے ساتھ آنے سے علاقے میں ایک نیا “پاور پلیئر” ابھرا ہے۔ مشرقی ایشیا میں ابھی تک امریکا کا ہی غلبہ رہا ہے لیکن روس بھی پچھلے کچھ سالوں میں کسی حد تک یہاں پہنچ چکا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب چین نے یہاں اس طرح اپنا قدم بڑھایا ہے۔

دنیا اس وقت کورونا وائرس سے لڑنے میں جٹی ہے اور چین، جو سب سے پہلے اس وبا کی لپیٹ میں آیا تھا، اس سے نکل چکا ہے اور اپنے تجارتی، سیاسی اور سفارتی معاملات کو بہتر بنانے میں جٹا ہوا ہے۔ چین کی تیاریوں اور اقدامات سے لگتا ہے کہ جب تک دنیا اس وبا سے نکل کر دیگر معاملات پر توجہ دینے کے قابل ہو گی، وہ کئی محاذوں پر اپنی پوزیشن بہتر بنا چکا ہو گا۔ ماضی میں امریکا اور سوویت یونین کی طرح، اب ایک نئی سرد جنگ کے عالمی معاملات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس بار سرد جنگ ہے امریکا اور چین کے مابین اور یہ سرد جنگ بھی عروج پر ہے۔ پہلی سرد جنگ میں غیر جانب دار بلاک میں رہنے والا بھارت امریکی گود میں بیٹھ چکا ہے، اور عالمی معاملات پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ عمل بھارت کے لئے خسارے کا سودا ثابت ہو گا۔ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہمیشہ سے بردارانہ اور مضبوط رہے ہیں جبکہ بھارت سے پیچھا چھڑانے کے بعد ایران کے بھی پاکستان کے مزید قریب آ جانے کے روشن امکانات ہیں۔ ہمیں چین کے ساتھ دوستی کو مضبوط رکھنا ہو گا اور اس کے ساتھ ساتھ خلیج میں سعودی عرب سمیت دیگر دوست ملکوں کے ساتھ تعلقات میں توازن بھی لانا ہو گا تاکہ پاکستان نئے اتحادوں کے درمیان پس کر رہ جانے کی بجائے، ان اتحادوں کی وجہ سے بننے والے مواقع سے فائدہ اٹھا سکے، بلکہ ممکن ہو تو ان کا حصہ بن سکے۔ مستقبل میں ان نئے اتحادوں میں پاکستان اپنی سٹریٹیجک پوزیشن سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں آ چکا ہے، اب لازم یہ ہے کہ یہ موقع ہاتھ سے پھسلنے نہ پائے۔ اس کے لئے ہمیں متوازن خارجہ پالیسی پر عمل درآمد جاری رکھنا ہو گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here