0
82

کون جیتا کون ہارا؟
زبان خلق
تحریر۔چوہدری رستم اجنالہ
آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کو تبدیل کر دیا گیا ہے اور سی سی پی او عمر شیخ کام کرتے رہیں گے یہ خبر ہے آج کی۔ یہ لڑائی تین دن سے شدت اختیار کر گی تھی آئی جی پنجاب شعیب دستگیر تین دن سے آفس اجتجاجا نہیں جا رہے تھے کہ اس سی سی پی او لاہور کے ساتھ کام نہیں کر سکتا برحال تین دن سے جو کچھ ہو رہا تھا وہ سب نے ٹی وی پر دیکھا اور سنا اور اخبارات میں بھی پڑھا ہے ۔آج ایک ٹی وی چینل یہ خبر دے رہا تھا کہ سی سی پی اوعمر شیخ قبضہ مافیا جرائم پیشہ افراد نون لیگ کے لوگوں کے خلاف کاروائیاں کرنا چاہتے تھے اورائی جی صاحب اس میں رکاوٹ بن رہے تھے یہ خبر ٹی وی چینل کی ہے ۔اس بارے میں میں وہ بات کرنا چاہتا ہوں جو میرا ذہن کہ رہا ہے ہوسکتا ہے میں اس میں غلط ہی ہوں اور ہر ایک کا میری اس بات سے متفق ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔اس بات کا اگر بغور اندازہ لگایا جائے تو معاملہ سمجھ اتا ہے آئی جی کو بھی اسی حکومت نے کچھ ماہ پہلے لگایا ہے اور سی سی پی او کو بھی اسی حکومت نے لگایا ہے اور یہ پہلے سی سی پی او ہیں جن کو آئی جی کی مشاورت کے بغیر لگایا گیا ہے ۔یہ لڑائی تو حکومت نے اس وقت ہی شروع کر دی تھی جب سی سی پی او کو لگایا تھا ۔ آئی جی کی مشاورت کے بغیر لگا کر شائید حکومت لاہور میں نون لیگ کو دیوار سے لگانے کا پروگرام بنا رہی ہے اور اس کام کے لیے عمر شیخ کا انتخاب کیا گیا ہے ۔پہلی بات تو یہ ہے کہ سی سی پی او کا انتخاب آئی جی کی مشاورت کے بغیر کرنا ہی ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے اور یہ خلاف وزی کسی اور نے نہیں بلکہ حکومت نے کی ہے اور اس کے بعد سی سی پی او کے آئی جی کے خلاف بیان بازی ڈسپلن کی خلاف وزی ہے اور یہ خلاف ورزی اس بندے نے کی ہے جو محکمے کے ڈسپلن کا پابند ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے سینئر کے حکم کا پابند ہوتا ہے اور اس کے بعد آئی جی صاحب نے سی سی پی او کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر کہ حکومت کو چیلنج کر دیا۔ یعنی ہوا کچھ یوں کہ سب نے ہی مل کر مذاق اڑایا ڈسپلن کا قانون کا اور محکمے کا ۔اور محکمہ بھی وہ جس پر پہلے ہی عوام کا اعتماد اٹھتا جا رہا ہے ۔اگر موجودہ حکومت کے اپوزیشن دور والےبیانات سنے جائیں تو ان کے مطابق محکموں کو آزادانہ کام کرنے دینا چائیے حکومت کو سیاسی مقاصد کے لیے ریاستی اداروں کو استعمال نہیں کرنا چائیے۔ یہی بات اج کی اپوزیشن بھی کرتی ہے ۔ اوریہ بات بلکل ٹھیک بھی ہے لیکن شائید بیانات کی حد تک یہ بات کرتے ہیں تمام سیاست دان جب وہ اپوزیشن میں ہوتے ہیں اور حکومت میں آتے ہی یہ بات اور اپنے تمام بیانات بھول جاتے ہیں اور اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ریاستی اداروں کا بے دریغ استعمال شروع کر دیتے ہیں اور ہر محکمے میں افسران اپنی مرضی کے لگانے شروع کر دیتے ہیں اور یہی بات ہمارے ملک میں نظام کوبیگاڑ نے کی بڑی وجہ بنتی ہے اور ہماری حکومتیں خود سارا نظام اپنے انڈر کرنے کے لیے سارے ملک کا نظام بیگاڑ دیتی ہیں اور اس معاملے میں بھی یہی کچھ ہوا ہے کہ جونیئر اپنے سئینر کا احترام نہیں کر رہا حکومت اہل لوگوں کی جگہ ہر محکمے میں اپنے چہتوں کو لگانے میں مصروف ہے تاکہ اپوزیشن کو دبایا جا سکے ۔حکومت کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ یہی کام پہلے حکمران بھی کرتے رہے ہیں جو اج ذلیل ہو رہے ہیں اور اب یہ حکومت بھی وہی کام کر رہی ہے جو پہلووں نے کیے تو حکومت کو ان کے انجام کو مدنظر رکھنا چائیے اور عبرت حاصل کرتے ہوئے وہ کام کرنے چائیں جو ملک اور عوام کے لیے بہتر ہوں نہ کہ وہ کام کریں جس سے اپ کے سیاسی مخالفین تو وقتی طور پر کمزور ہو جائیں اور ساتھ ساتھ ملکی ادارے بھی کمزور پڑ جائیں اور عوام کا اعتماد اداروں سے اٹھ جائے۔میرا سوال ہے حکومت سے اداروں سے اور اس باشعور عوام سے کہ اس لڑائی میں جیتا کون اور ہارا کون ؟۔خدا راہ اپنی حکومت کو مظبوط بنانے کی خواہش میں اپنے ملک کے ادروں کو کمزور مت کریں ۔اپ آج ان باتوں پر عمل کریں جو آپ اپوزیشن میں رہتے ہوئے کرتے تھے اور وہی باتیں ملک کے لیے بہتر ہیں اداروں کے لیے بھی بہت زیادہ فائدہ مند ہونگی اگر ان پر اس وقت عمل کیا جائے تو۔اپ تو چلے جائیں گے پہلے حکمرانوں کی طرح اور ان ریاستی اداروں نے اپ کے جانے کے بعد بھی کام کرنا ہے تو خدا راہ ان کو آزاد کریں اور آزادانہ کام کرنے دیں اللہ ہمارا اور ہمارے ملک پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔۔آمین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here