قیامت آ ئے گی تو بتائے گی کہ قیامت کیوں ضروری تھی

0
89

قیامت آ ئے گی تو بتائے گی
کہ قیامت کیوں ضروری تھی
کبھی ننھے پھول حوس کا شکار بنتے ہیں تو کبھی ننھے پھولوں کے سامنے انکی مائیں حوس کا نشانہ بنتی ہیں
افسوس در افسوس اس بات کا ہے کہ پہلے صرف ظلم ہوتا تھالیکن اب ظلم کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں لیکن نہ ہی تحفظ فراہم کرنے والوں کے سر پر جوں رینگتی ہے اور نہ ہی انصاف فراہم کرنے والوں پر کوئی اثر ہوتا ہے۔
بلکہ اپنی نا اہلی چھپانے کے لئے الٹا سوالات اٹھا کر مظلوم کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
محترم سی پی او لاہور فرماتے ہیں کہ مجھے حیرانی ہے کہ اکیلی خاتون جو 3 بچوں کی ماں ہے اور اکیلی ڈرائیور ہے وہ رات کو اکیلی نکلی کیوں؟
گاڑی کا پیٹرول چیک کیوں نہیں کیا۔
اگر جانا ہی تھا تو جی ٹی روڈ سے کیوں نہیں گئیں؟
جناب والہ آپ کو حیرانی ہے لیکن عوام کو اپنے جان و مال کیساتھ ساتھ عزتیں لٹنے کی پریشانی ہے
اگر آپ کو اس بات کا اندازہ تھا کہ رات گئےموٹروے محفوظ نہیں ہے تو آپ نے اسے محفوظ کیوں نہ بنایا؟
جناب والہ اگر آپ محفوظ بنانے کے اہل نہیں تھے اوروہ علاقہ محفوظ ہی نہیں تھا تو آپ نے عوام کو آگاہی کیوں نہیں دی کہ آپ اس مقام پر تحفظ فراہم کرنے کے اہل نہیں وہ سڑک ایسے حادثات کو جنم دینے کے لئےکیوں کھولی گئی جہاں معصوم بچوں کے سامنے ایک ماں کی عزت تار تار ہوئی
جناب سی پی او صاحب گورنمنٹ کا کام ایک سڑک کی تکمیل تھی جو اس نے کر دی۔لیکن آپ کا کام عوام کو ہر ممکن تحفظ فراہم کرنا ہے۔سوالات کرنا نہیں۔

کیایہ کہنا درست ہوگا کہ جناب سی پی او لاہور عوام کو اگر تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ٹھہرے ہیں تو وہ عوام کی جان و مال کیساتھ ساتھ عزتوں سے بھی کھیل رہے ہیں؟
کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ جناب سی پی او لاہور اس اہلیت کے حامل نہیں کہ عوام کو ہر ممکن تحفظ دے سکیں
افسوس ہوا کہ جو واقع ہوا وہاں صرف سوالات اٹھانے والا انسان کو نہ شرم آئی لیکن پوری انسانیت شرما گئی

اے کاش کوئی بنے میرے اس مظلوم کی آواز
اے کاش کہ اس آواز کے بدلے پھر کوئی مظلوم نہ ہو۔
کہاں ہیں وہ چند نا معلوم خواتین؟
کہاں ہیں وہ خواتین مارچ کی لبرل عورتیں ، جو عورت کے حق کی بات کرتی تھیں؟
جو بات کرتی تھیں عورت پر ہونے والے ظلم و جبر پر
جو بات کرتی تھیں میرا جسم میری مرضی کی
جو بات کرتی تھیں عورت کے انصاف کی
کہاں ہیں چند نامعلوم عورتیں؟
آج کیوں نہیں نکلیں ؟ جب حوا کی بیٹی کی عزت تار تار ہوئی
ہمارے ملک میں ایسے کئی فتنے آئیں گے،کئی ظلم کی داستانیں لکھی جائیں گی۔کئی گھروں کی عزتیں یونہی لٹیں گی اور لٹتی رہیں گی جب تک انصاف عام نہ ہوگا،جب تک مظلوم پر ہونے والے ظلم و زیادتی کا حساب نہ ہوگا۔جب تک ہمارے محافظ سوالات کرنے کی بجائے ہمیں تحفظ فراہم نہیں کریں گے۔
ایسے واقعات ہمارے اداروں کی قابلیت اور پالیسیز پر سوالیہ نشان ہیں
دعا ہے کہ پھر کبھی کسی باپ ،بھائی شوہر، بیٹے کی عزت برباد نہ ہو
دعا ہے حوا کی بیٹی محفوظ رہے۔
کوئی ایسا اہل قلمدان آئے جو اپنے قلمدان کےقلم سے ایسا قانون لکھ دے کہ پھر کوئی مظلوم نہ ہو۔آمین
تحریر: فیضان بشارت

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here