گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو تحریر چوہدری رستم اجنالہ

0
704

گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو
تحریر چوہدری رستم اجنالہ
موجودہ سیاسی صورت حال میں موجودہ حکومت بڑی مشکل میں نظر آرہی ہے ایسا لگتا ہے کہ اپنی مدت پوری کرنے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گی اور حکومت بظاہر بے حد مشکلات میں نظر آتی ہے آئے روز حکومت کے لئے کوئی نہ کوئی نیا مسلۂ کھڑا ہو جاتا ہے اس صورت حال میں اپوزیشن کو لگتا ہے کہ حکومت کی دیوار ہل رہی ہے اور گرنے کو ہے اور ہر پارٹی اس دیوار کو اپنی اپنی انگلی لگا رہی ہے ایسا لگتا ہے ہر حکومت مخالف پارٹی اپنی انگلی کو خون لگا کر اپنے اپکو شہید ثابت کرنے کے چکر میں ہے کہ لوگ اس کی انگلی کو لگا خون دیکھ کر اس کو بھی شہید سمجھنے لگیں ۔حکومت کو مشکلات میں دیکھ کر ہر پارٹی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے چکر میں نظر آ رہی ہے قادری صاحب 17 جنوری اور عمران خان 18 جنوری کو حکومت گرانے کے لیے نکلے ہیں پیپلز پارٹی بھی حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان کر چکی ہے دوسری پارٹیاں ق لیگ اور شیخ رشید پہلے ہی اس چکر میں ہوتے ہیں کہ کوئی شور مچائے تو ہم بھی اس میں کُود کر ان شور مچانے والوں کے ساتھ شور مچاتے رہیں اسی کو ہی تو کہتے ہیں نا کہ کسی کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانا ایسے ہی ق لیگ اور شیخ رشید دیکھتے رہتے ہیں کہ کب کوئی حکومت مخالف تحریک کا اعلان کرے تو ہم بھی اس میں شامل ہو کر اپنا نام بھی حکومت مخالف تحریک میں اپنا بھی نام لکھوا لیں اور اگر حکومت اس تحریک کے نتیجے میں گر جائے تو ہم یہ ثابت کرینگے کہ ہماری ہی تحریک کے نتیجے میں حکومت گری ہے ۔ سب پارٹیوں کو اس وقت لگ رہا ہے کہ حکومتی دیوار گرنے لگی ہے وہ بھی اپنی اپنی انگلی لگا کر حکومت مخالف تحریک کا حصہ بننا چاہتی ہے کہ حکومت تو گر ہی رہی ہے اپنا نام بھی لکھوا لو کہ حکومت ہم نے گرائی ہے پھر ہر پارٹی عوام کو اس چکر میں ڈالے گی کہ ہماری پاور ہی کی وجہ سے حکومت اپنی مدت سے پہلے ہی چلتی بنی ہے اگر ہم نہ نکلتے تو یہ حکومت کبھی نہ جاتی یعنی ہر بندہ انگلی پر خون لگانے اور شہید کہلانے کے چکر میں اور حکومتی ہلتی ہوئی دیوار کو انگلی لگا کر یہ نعرہ لگانے میں مصروف ہے کہ گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here