کرکوک: عراق اور کرد افواج میں شدید جھڑپیں

0
332
کرکوک عراق
کرکوک عراق

یہ جھڑپیں عراقی فوج کی جانب سے متنازع علاقوں پر قبضہ کیے جانے کے کئی دنوں بعد ہوئی ہیں۔

جائے وقوع پر موجود بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ الٹن کوپری میں ہونے والی جھڑپوں میں راکٹ، گولہ باری اور مشین گن فائر کیے گئے۔

عراق تنازع: پیشمرگہ کو کرکوک چھوڑ دینے کی حکومتی مہلت ختم

عراقی کردستان کے ریفرینڈم میں اکثریت آزادی کے حق میں

خیال رہے کہ کرکوک صوبے میں یہ آخری ضلع ہے جو اب بھی پیشمرگہ جنگجوؤں کے زیرِ قبضہ ہے۔

عراق کی افواج نے رواں ہفتے اس علاقے کے کچھ حصوں پر قبضہ کیا جس پر سنہ 2014 سے کردوں کا قبضہ تھا۔

عراقی فوج اور حکومت حامی شیعہ ملیشیا نے ایک کارروائی کے ذریعے کردوں کو سرکاری طور پر تسلیم شدہ خود مختار کردستان کے علاقے (کے آر آئی) میں واپس دھکیل دیا تھا۔

تیل سے مالا مال صوبے کرکوک پر عراق کی مرکزی حکومت اور کے آئی آر قبضے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

عراق کے وزیرِ اعظم حیدر العبادی نے کرد حکومت کی جانب سے کیے جانے والے ریفرینڈم کے بعد فوجی کارروائی کا حکم دیا تھا۔ انھوں نے اس ریفرینڈم کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

عراقی فوج کے ایک ترجمان کے مطابق کاؤنٹر ٹیرازم اور وفاقی پولیس افواج کے علاوہ ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا نے پر کارروائی کی۔

علاقے میں ایک چیک پوائنٹ پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ گالپن کا کہنا ہے ‘ اس کارروائی میں متعدد فوجی گاڑیوں اور سپاہیوں نے حصہ لیا۔‘

عراقی فوج کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ دی وار میڈیا سیل کے مطابق حکومت نے الٹن کوپری کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے تاہم اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

#Source by BBC URDU

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here