پاکستان پیپلز پارٹی نے کرشنا کوہلی کو سندھ سے جنرل نشست کا امیدوار نامزد کیا ہےـ

0
893


کرشنا جب اپنے کاغذات جمع کرانے الیکشن کمیشن کے دفتر میں داخل ہوئیں تو وہ الگ سی نظر آ رہی تھیں۔
کرشنا کوہلی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پاکستان کی تاریخ میں وہ پہلی تھری خاتون ہیں جس کو ایوان تک پہنچنے کا موقع مل رہا ہےـ میں اس وقت بلاول بھٹو اور ادی (فریال تالپور) کا جتنا شکریہ کروں کم ہوگاـ‘
کرشنا کوہلی کا تعلق تھر کے ضلع نگرپارکر کے ایک گاؤں سے ہےـ ان کے دادا روپلو کوہلی نے 1857 میں انگریزوں کے خلاف ہونے والی آزادی کی جنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیاـ جنگ آزادی کے خاتمے کے چند ماہ بعد ان کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ نگرپارکر میں زندگی بہت مشکل سے گزرتی ہے کیونکہ وہاں سالہا سال خشک سالی رہتی ہے جو بہت کچھ سکھا دیتی ہےـ
کرشنا کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہےـ ان کے والد جگنو کوہلی ایک زمیندار کے ہاں مزدوری کرتے تھے اور کام نہ ہونے کے باعث اکثر مختلف علاقوں میں کام کی تلاش میں جایا کرتے تھےـ
کرشنا کوہلی کے کاغذاتِ نامزدگی۔ ’میرے والد کو کُنری (عمرکوٹ) کے زمیندار نے قید کرلیا اور ہم تین سال تک ان کی قید میں رہےـ میں اس وقت تیسری جماعت میں تھی ـ ہم کسی رشتہ دار کے پاس نہیں جاسکتے تھے نہ کسی سے بات کرسکتے تھے ـ بس ان کے کہنے پر کام کرتے تھے اور ان کے کہنے پر واپس قید میں چلے جاتے تھے ـ‘
کرشنا کوہلی کیشو بائی کے نام سے بھی جانی جاتی ہیں ـ ان کی شادی سولہ سال کی عمر میں کردی گئی تھی لیکن وہ بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر ان کی پڑھائی میں مددگار ثابت ہوئےـ
انھوں نے سندھ یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹرز کیا ہے اور پچھلے بیس سال سے تھر میں لڑکیوں کی تعلیم اور صحت کے لیے جدوجہد کررہی ہیں ـ انہوں نے بتایا کے اس وقت نگرپارکر کے ایک سکول میں صرف ایک ہی ٹیچر ہے جو بچیوں کو تعلیم دینے کے لیے رکھی گئی ہیں ـ
’تھر میں حاملہ خواتین کی زندگی بہت مشکل ہے اور میں ایوان میں آنے کے بعد ان کے لیے ضرور کام کرنا چاہوں گی ـ‘
کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ ان کو پی پی پی کے رہنما سردار شاہ نے مشورہ دیا کہ وہ کاغذات ضرور جمع کرائیں ـ
’میں نے اس سے پہلے بھی پی پی پی کے ساتھ کام کیا ہےـ 2010 کے جنسی ہراساں کرنے کے خلاف بل سے لے کر اٹھارویں ترمیم کی بحالی تک ہم نے ایک ساتھ کافی جگہوں پر کام کیا ہےـ میں عورتوں کی صحت اور تعلیم کے لیے جو پلیٹ فارم چاہتی تھی وہ مجھے آخرکار مل گیا ہےـ میری خواہش ہے کہ میں امیدوں پر پورا اتروں ـ‘ شکریہ بی بی سی اردو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here