پشتون جرگے نے حکومت سے معاہدے کے بعد اجتجاج ختم کر ریا

0
359


اسلام آباد کے پریس کلب کے سامنے گذشتہ دس دن سے جاری پشتون قومی جرگے کا احتجاج حکومت سے پانچ نکات پر مبنی معاہدے پر اتفاق رائے کے بعد سنیچر کی شام کو اختتام پذیر ہو گیا ہے۔
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے مشیر برائے سیاسی امور امیر مقام کے نام سے جاری کیے گئے اس معاہدے میں وزیر اعظم کی جانب سے محسود قبائلی جرگے کو یقین دلایا گیا ہے کہ حکومت جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ نقیب اللہ محسود کے مبینہ ماورائے عدالت قتل میں ملوث پولیس افسر راؤ انوار کو قانون کے کٹہرے میں لائے گی۔
اس کے علاوہ معاہدے میں جرگے کے منتظمین سے وعدہ کیا گیا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں بارودی سرنگوں کا جلد سے جلد خاتمہ کرنے کے لیے ‘متعلقہ حکام’ کو کہا جائے گا اور ساتھ ساتھ حکومت بارودی سرنگوں سے متاثرہ افراد اور ان کے خاندان کو زرتلافی ادا کرے گی۔ معاہدے کی دیگر شقوں کے مطابق نقیب اللہ محسود کے آبائی گاؤں مکین میں کالج قائم کیا جائے گا اور ان کے دیگر مختلف ‘جائز مطالبات’ پر بھی عمل در آمد کیا جائے گا۔
ان یقین دہانیوں کے بعد جرگہ منتظمین نے احتجاج کو فوری ختم کرنے کا اعلان کیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here