راو انوار نے موقع ضائع کر دیاہےچیف جسٹس

0
587


سپریم کورٹ نے نقیب اللہ قتل کے مقدمے میں حفاظتی ضمانت ملنے کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہونے پر سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں ملزم کو گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے فوج اور سویلین خفیہ اداروں کے علاوہ وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ ملزم راؤ انوار کی گرفتاری میں پولیس کو معاونت فراہم کریں۔
اس سے پہلے بھی سپریم کورٹ نے فوج اور سویلین خفیہ اداروں کو حکم دیا تھا کہ وہ سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا سراغ لگانے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کریں۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے سٹیٹ بینک کو حکم دیا ہے کہ وہ ملزم راؤ انوار کے تمام بینک اکاونٹس کو منجمند کر دیں۔ جمعے کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے میں نقیب اللہ کی ہلاکت سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔
عدالت کے استفسار پر سندھ پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ نہ تو پولیس اور نہ ہی انٹیلیجنس بیورو کے پاس واٹس ایپ کال کا سراغ لگانے کی صلاحیت ہے۔
چیف جسٹس نے سندھ پولیس کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے زینب قتل کیس میں پنجاب پولیس کو ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے گھنٹوں کی مہلت دی تھی اور پنجاب پولیس نے اس عرصے کے دوران ہی ملزم کو گرفتار کرلیا تھا۔
اُنھوں نے کہا کہ راؤ انوار کی گرفتاری کے سلسلے میں سندھ پولیس کے سربراہ کی کاؤشوں پر شک نہیں ہے البتہ اس کے نتائج سامنے نہیں آ رہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے راؤ انوار کو حفاظتی ضمانت دیے کر ایک موقع فراہم کیا تھا لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اُنھوں نے یہ موقع ضائع کر دیا ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں چاروں صوبوں کی پولیس کے سربراہوں کو حکم دیا ہے کہ وہ نقیب اللہ قتل کے مقدمے کے تمام گواہوں کو تحفظ دینے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں۔شکریہ بی بی سی اردو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here