سعودی عرب مزیدفوج بھیجنے کے معاملے پر وضاحت طلب

0
447


پاکستان فوج کی جانب سے سعودی عرب میں مزید فوجی اہلکار بھیجے جانے کے اعلان کے بعد سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے حکومت سے اس معاملے پر وضاحت طلب کرتے ہوئے ایوان کو اعتماد میں لینے کا حکم دیا ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے وزیر دفاع خرم دستگیر کو کہا ہے کہ وہ پیر کو ایوان میں آ کر اس بارے میں معلومات دیں۔
خیال رہے کہ جمعرات کو پاکستانی فوج کے ایک اعلان کے مطابق فوج کے مزید دستوں کو مشاورتی اور تربیتی مشن پر سعودی عرب میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق جمعے کو پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے ایوان میں فوج کی جانب سے سعودی عرب فوج بھیجنے سے متعلق اعلان کے بارے میں سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ پارلیمان کی مشترکہ قرار داد کے تناظر میں پاکستان کو یمن کے معاملے میں غیرجانبدار رہنا چاہیے فوج روانہ کرنے کا معاملہ وضاحت طلب ہے اور وہ اس سلسلے میں تحریک التوا پیش کرنا چاہیں گے۔
اس پر چیئرمین نے وزیر دفاع کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ فوج کے مطابق یہ فوجی مشترکہ معاہدے کے تحت بھیجے جائیں گے لیکن ان کی تعداد نہیں بتائی ہے۔
انہوں نے فوجی ترجمان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’ ان کے مطابق یہ ایک ڈویژن سے کم ہوں گے لیکن دس کم ہو گے یا بیس یہ وضاحت نہیں کی گئی ہے۔’غالب امکان یہی ہے کہ ایک بریگیڈ اور ڈویژن کے درمیان فوجی ہوں گے۔‘
اعلان کے وقت سے متعلق فرحت اللہ بابر نے کہا کہ یہ فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور سعودی سفیر کے درمیان ملاقات اور فوجی سربراہ کے سعودی عرب کے گذشتہ ماہ تین روزہ غیراعلانیہ دورے کے بعد سامنے آیا ہے۔
سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ بڑا سنگین ہے۔ یاد رہے کہ چند سال قبل سعودی عرب نے یمن پر حملے سے پہلے پاکستان سے اپنی فوج بھیجنے کی درخواست کی تھی جس کو پارلیمنٹ کی ایک قراد داد پیش ہونے کے بعد مسترد کر دیا گیا تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سعودی عرب میں 1180 پاکستانی فوجی پہلے سے تعینات ہیں جو سنہ 1982 میں ہوئے ایک باہمی معاہدے کے تحت سعودی عرب بھیجے گئے تھے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط دفاعی تعلقات ہیں اور پاکستان کا نام 41 ممالک پر مشتمل اس اتحاد میں شامل ہے جو سعودی عرب نے اسلامی شدت پسندی کو ختم کرنے کے نام پر قائم کیا ہے۔
اس اسلامی اتحاد کی مشترکہ فوج کی سربراہی بھی پاکستان فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو سونپ دی گئی تھی۔ شکریہ بی بی سی اردو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here