ملک میں کوئی بھی ایسا ادارہ نہیں ہے جسے مقدس گائے قرار دیا جائے

0
266


پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اعلیٰ عدالتوں کی طرف سے ارکان پارلیمان کو ’چور، ڈاکو اور مافیا‘ جیسے القابات سے نوازنے کے معاملے کو پارلیمان میں زیر بحث لانے کا کہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس معاملے کو پارٹی الحاق سے بالاتر ہو کر دیکھنا ہو گا۔
پیر کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’آج اعلیٰ عدالتوں میں ارکان پارلیمان کو چور، ڈاکو اور مافیا کہا جاتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ تمام ادارے آئینی حدود میں رہ کر کام کریں گے تو ملک ترقی کرے گا۔ وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ پارلیمان میں بیٹھے ہوئے لوگ پاکستانی عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان ملک میں قانون سازی کرتی ہے اور کیا اس پارلیمینٹ کو قانون سازی کے لیے کسی سے پیشگی اجازت لینا ہوگی؟
اُنھوں نے کہا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ اگر قانون سازی کی تو خلاف آئین قرار دیا جائے گا، ’کیا پارلیمنٹ کو قانون سازی کا حق نہیں ہے‘۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ یہ ایسے معاملے ہیں جن پر سب کو سوچنے کی ضرورت ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اعلیٰ افسران اور بیوروکریٹس کو عدالتوں میں بلا کر بےعزت کیا جاتا ہے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’فیصلے کرنے اور قانون سازی میں کچھ غلطیاں ہو سکتی ہیں لیکن غلطیوں کی نشاندہی کرنے کا بھی ایک طریقہ ہے‘۔
ان کے علاوہ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک میں حالت یہ ہے کہ ہر ادارہ دوسرے ادارے پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ کس طرح اس کی خامیوں کو اجاگر کیا جاسکے۔
اُنھوں نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ تمام ادارے اپنی خامیوں کو دور کرنے کے لیے اقدامات کریں۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ کسی بھی بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو وہ عدالتوں سے حکم امتناعی حاصل کرلیتا ہے، جس کو ختم کروانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کی جاتی ہے لیکن اس میں کامیابی نہیں ملتی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں ہر ادارہ دوسرے ادارے کے کام میں مداخلت میں زیادہ دلچپسی رکھتا ہے، اتنی شاید وہ اپنے ادارے میں خامیوں کو ٹھیک کرنے میں نہیں رکھتا۔
اُنھوں نے کہا کہ اس ملک میں کوئی بھی ایسا ادارہ نہیں ہے جسے مقدس گائے قرار دیا جائے۔ شکریہ بی بی سی اردو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here