کچرا پھینکنے پر 1سے 6 ماہ تک قید ہوسکتی ہے۔

0
461


پاکستان کے صوبہ سندھ میں کچرا رہائشی، صنعتی علاقوں اور خالی جگہوں پر پھینکنے کو جرم قرار دیا گیا ہے جس کی سزا ایک سے 6 ماہ تک قید ہوسکتی ہے۔
سندھ کے محکمہ داخلہ نے ایک نوٹیفیکیشن میں بتایا ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں قائم جوڈیشل واٹر کمیشن کی ہدایات کی روشنی میں یہ حکم جاری کیا گیا ہے۔
کمیشن نے عام شہریوں، میونسپل، سرکاری اور نجی اداروں کے ملازمین کی جانب سے گھریلو، صنعتی، تعمیراتی اور ہسپتالوں کا فضلہ رہائشی علاقوں میں پھینکنے کا سختی سے نوٹس لیا تھا اور کہا تھا کہ اس کچرے اور فضلے کو جلانے سے کئی ماحولیاتی اور صحت کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ حکومت سندھ نے اس ہدایت کی روشنی میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے جس کے تحت کوئی بھی شہری پھر چاہے وہ میونسپل ملازم ہو، کانٹریکٹر یا عام شہری کچرا اور فضلہ مختص مقامات کے علاوہ کہیں دوسری جگہ پر پھینک نہیں سکے گا اور نہ ہی اس کچرے کو جلایا جائیگا۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے متعلقہ تھانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 188 کے تحت مقدمات درج کریں۔ اس جرم کی سزا ایک ماہ سے 6 ماہ قید اور دو سو روپے سے لیکر ہزارے روپے تک جرمانہ ہے۔
واٹر کمیشن کے رکن شہاب اوستو نے بی بی سی کو بتایا کہ کراچی سمیت پورے سندھ میں کچرا میدانوں ، فصلوں یا گاؤں کے قریب پھینکا جاتا ہے یا پھر جلایا جاتا ہے، جس میں ہسپتالوں کا فضلہ بھی شامل ہوتا ہے جس کی وجہ سے ماحول آلودہ رہتا ہے اور بہت ساری بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ صوبہ سندھ میں کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لیے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، جس کے پاس اس وقت کراچی کے دو اضلاع سے کوڑا کرکٹ اٹھانے کی ذمہ داری ہے۔ بورڈ کی جانب سے چین کی کمپنی سے بھی کچرا اٹھانے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔
واٹر کمیشن کے رکن شہاب اوستو کا کہنا ہے کہ اس ادارے کے قیام کو ڈھائی سال ہوگئے ہیں لیکن اداراہ کراچی کے دو اضلاع میں کام کر رہا ہے اور تیسرے ضلعے میں ابھی شروع کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں کہیں بھی لینڈ فلنگ سائیٹ نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ کچرا جہاں جگہ ملے پھینک دیا جاتا ہے۔
کراچی میں روزانہ 12 ہزار ٹن یومیہ کچرا پیدا ہوتا ہے۔ شہر کے مضافات میں ایسے چار مقامات ہیں جہاں اس کو ٹھکانے لگایا جاتا ہے اور جہاں اس کو آگ لگائی جاتی ہے۔ ان علاقوں کے آس پاس کی آبادی اس سے لوہا، تانبہ، شیشہ اور پلاسٹک جمع کرکے فروخت کرتی ہے۔ شکریہ بی بی سی اردو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here