سینٹ الیکشن 2018 میں پنجاب میں نون لیگ اور سندھ میں پی پی پی نے میدان مار لیا

0
340


سینیٹ انتخابات 2018: مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدوار کامیاب

پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کی نصف نشستوں کی مدت مکمل ہونے کے بعد 52 سینیٹرز کو منتخب کرنے کے لیے ووٹنگ مکمل ہوگئی ہے اور ابتدائی نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔
ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی 12 نشستوں کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدواروں نے 11 نشستیں جیت لی ہیں اور آخری نشست پر پی ٹی آئی کے چوہدری سرور کامیاب ہوگئے ہیں۔
پنجاب اسمبلی سے پاکستان مسلم لیگ ن کے کامیاب ہونے والے امیدواروں میں کامران مائیکل، آصف کرمانی، رانا مقبول، اسحاق ڈار، حافظ عبد الکریم، مصدق ملک، سعدیہ عباسی، خالد شاہین بٹ، ہارون اختر، زبیر گل، نزہت صادق شامل ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں 368 اراکین نے ووٹ ڈالے اور یہ 100 فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ ہے۔
سندھ اسمبلی سے آنے والے نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی گیارہ سیٹیں جیت چکی ہیں اور ایک سیٹ پاکستان مسلم لیگ فنکشنل نے جیتی ہے۔ ایم کیو ایم کوئی سیٹ بھی نہیں جیت سکی۔ اطلاعات کے مطابق ایم کیو ایم کے کچھ اراکین نے پارٹی ڈسپلن کی مخالفت کرتے ہوئے پی پی پی کو ووٹ ڈالے ہیں۔ کامیاب ہونے والے اراکین میں کرشنا کماری، انور لعل دین، سنجے پروانی، اور ڈاکٹر موہن منجانی شامل ہیں۔
ان انتخابات میں بلوچستان اسمبلی پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن، دونوں کی ہی توجہ کا مرکز رہی ہے کیونکہ وہاں پر مسلم لیگ ن میں بغاوت کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
صوبہ بلوچستان سے سینٹ کی 7 جنرل نشتوں پر 4 آزاد امیدوار کامیاب ہوگئے ہیں۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد حیثیت سے کامیاب ہونے والے سینیٹروں میں انوار کاکڑ، کہدہ بابر، صادق سنجرانی اور احمد خان شامل ہیں جبکہ باقی تین جنرل نشستوں پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سردارشفیق ترین، جمیعت العلمائے اسلام (ف) کے مولوی فیض محمد اور نیشنل پارٹی کے محمد اکرم کامیاب ہوئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تنائج کے مطابق فاٹا کی چار نشستوں پر کامیاب ہونے والے امیدوار ہدایت اللہ، شمیم آفریدی، ہلال الرحمان اور مرزا محمد آفریدی ہیں۔ فاٹا سے 11 اراکین نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنا تھا تاہم ان میں سے 7 اراکین نے ووٹ ڈالے۔ تین اراکین نے فاٹا اصلاحات کے حوالے سے تحفظات کے پیشِ نظر ووٹ نہیں ڈالے۔
اس کے علاوہ اسلام آباد کی دو سیٹوں میں سے جنرل سیٹ پر اسد علی خان جونیجو اور ٹیکنوکریٹ سیٹ پر مشاہد حسین سید کامیاب ہوگئے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here