کیا چئیرمین سینٹ بلوچستان سے ہو گا؟

0
242


اکستان میں سینیٹ کے انتخابات سے لیکر چیئرمین سینیٹ کی نامزدگی تک بلوچستان کا نام زیر گردش ہے، ملک میں پارلیمانی تبدیلی کا آغاز بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی سے ہوا جس کے بعد وہاں سینیٹرز کے انتخاب میں حکمران مسلم لیگ ن ایک بھی نشست حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے تجویز پیش کی ہے کہ سینیٹ کا چیئرمین بلوچستان اور وائس چیئرمین فاٹا سے ہونا چاہیے، جمعے کو کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد انھوں نے واضح کیا کہ ان کے سینیٹرز پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے۔ عمران خان کی پریس کانفرنس سے چند گھنٹے قبل پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما قیوم سومرو نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے مطلوبہ ووٹس حاصل ہوچکے ہیں، جن کی تعداد 57 ہے۔
انھوں نے تحریک انصاف، جمعیت علما اسلام، عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ فنکشنل کا حوالہ دیا تھا، تاہم عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما زاہد خان نے اس تاثر کو مسترد کیا جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پریس کانفرنس کرکے اپنی پوزیشن واضح کردی متحدہ قومی موومنٹ کے دونوں دھڑوں کے رہنماؤں ڈاکٹر فاروق ستار اور خالد مقبول صدیقی سے مسلم لیگ نے کے رہنما مشاہداللہ خان اور گورنر زبیر احمد نے ملاقات کرکے سینیٹ میں مدد کی درخواست کی تھی تاہم کوئی واضح جواب حاصل نہیں کرسکے ہیں۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ خالد مقبول صدیقی گروپ کو 5 سینیٹرز کی حمایت حاصل ہے اور ان کا خیال ہے کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت کریں گے، اس حوالے سے نثار کھوڑ کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی قیادت ان سے ملاقات کرچکی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے فاٹا کے 6 اراکین نے ملاقات کی ہے جن کے بارے میں پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ ڈاکٹر قیوم سومرو کا دعویٰ ہے کہ جمعیت علما اسلام ف ایک دو روز میں ان کی حمایت کا اعلان کرے، ڈاکٹر قیوم جو خود بھی جے یو آئی اے میں شامل رہے ہیں جے یو آئی کی جانب سے ان کے دعوے کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔
تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے بلوچستان سے چیئرمین اور فاٹا سے وائس چیئرمین کے امیدوار کی تجویز آصف علی زرداری کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہیں۔
’آصف علی زرداری اگر اس تجویز سے اتفاق کرتے ہیں تب تو اس بات کے امکانات ہیں کہ مشترکہ امیدوار سامنے آئے لیکن وہ پیپلز پارٹی کا حمایت یافتہ امیدوار تو ہوسکتا ہے لیکن ان کا نامزد کردہ امیدوار نہیں ہوگا، اگر زرداری حمایت نہیں کرتے تو پھر یہ سہ فریقی انتحاب ہوگا۔‘
بلوچستان کے سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ عمران خان کا موقف بلوچستان کے حق میں ایک اچھا دباؤ ہے، یہ ایک اچھی بات ہے کہ جو 6 سینیٹرر کامیاب ہوئے ہیں انھوں نے عمران خان سے بات کی اس کے بعد آصف علی زرداری سے ملاقات کی، جس میں ان کی اطلاعات کے مطابق زرداری نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی پیشکش کی ہے تاہم انھوں نے چیئرمین شپ کامطالبہ کیا ہے۔
’یہ اچھی روایت ہے کہ بلوچستان کی جانب سے چیئرمین شپ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کچھ غیر تصدیق شدہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ مسلم لیگ ن حاصل بزنجو کو نامزد کردے۔شکریہ بی بی سی اردو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here