پاکستان کے زرمبادلہ کےذخائر 12.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئے

0
611

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی اقتصادی صورتحال پر اپنی رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق باکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر 12.8 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔
آئی ایم ایف کے اندازوں کے مطابق ان زرمبادلہ کے ذخائر سے صرف تین ماہ سے بھی کم عرصے تک کے لیے درآمدات کی ادائیگی ممکن ہوگی۔
دوسری جانب رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کی مد میں آنے والی سرمایہ کاری، زراعت ، صنعتکاری اور دیگر عوامل میں بہتری آنے کے سبب سال 2016/2017 میں مجموعی قومی پیداوار میں 5.3 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ افراط زر 5.5 فیصد پر رکی رہی۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ برآمدات میں کسی حد تک اضافے کے باوجود مالیاتی خسارہ بڑھ کر 15.7 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے جو کہ مجموعی قومی پیداوار کا 4.8 فیصد کے برابر ہوگا۔
برآمدات میں اضافے پر تجزیہ کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ تین سال میں مسلسل کمی دیکھنے کے بعد پہلی بار برآمدات کو سنبھالا ملا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے آنے والے زر مبادلہ میں بھی پچھلے سال کی کمی کے بعد ایک بار پھر بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔
رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس سال ہونے والے الیکشن کی وجہ سے پاکستان کی آئی ایم ایف کو قرضے کی ادائیگی متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ الیکشن سے قبل خرچوں میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور برآمدات کی بحالی نہ ہونا بھی قرضوں کی ادائیگی میں دشواری پیدا ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب پاکستانی حکام نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ روپے کی قدر میں کمی آنے کے بعد غیر ملکی زر مبادلہ کی مارکیٹ میں توازن دیکھنے میں آیا ہے جو درمیانی مدت میں قرضے ادا کرنے کی مد میں فائدہ مند ثابت ہوگا شکریہ بی بی سی اردو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here