پاکستان میں مسیحی برادری خوفزدہ آخر کیوں ہے؟

0
643


پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں چند روز قبل اقلیتی مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی تنظیم رواداری تحریک کے کارکنان نے پنجاب اسمبلی کے سامنے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ چیئرنگ کراس کے مقام پر لگایا۔
لاہور میں ہونے والے گذشتہ چند احتجاجوں کے برعکس اس احتجاج کے دوران مال روڈ پر ٹریفک بند ہوئی اور نہ ہی کوئی سڑک بلاک کی گئی۔ رواداری تحریک کے چیئرمین سیمسن سلامت کہتے ہیں ’حکومت وہی ہے جو سڑک بلاک ہونے سے پہلے ہی اپنے عوام کی آواز سن لے۔‘
اس بار وہ اور ان کے ساتھی مسیحی برادری کے ان افراد کے لیے آواز اٹھا رہے تھے جنھیں گذشتہ تقریباً ایک ماہ کے عرصے میں صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں واقع اپنے گھروں سے یا تو در بدر ہونا پڑا یا وہ گھروں میں رہتے ہوئے بھی خوف کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
سیمسن سلامت اور ان کے ساتھی کارکن حکومتِ پنجاب سے اقلیتوں کے لیے تحفظ کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کی آواز کہاں تک سنائی دی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے تاہم متاثرہ افراد سے بات کرنے پر معلوم ہوا کہ ان پر گزرنے والے حالیہ مشکل وقت میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آئی۔
صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران مسیحی برداری کے کم از کم دو گرجا گھروں پر مسلح افراد نے حملہ کیا، شیخوپورہ میں ایک مسیحی شخص کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا اور کم از کم دو ایسے واقعات ہوئے جہاں درجنوں کی تعداد میں مسیحی خاندانوں کو اپنی زندگیاں بچانے کے لیے اپنے گھربار چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ صوبہ پنجاب میں مقیم مسیحی برادری کے افراد پر مشکل وقت کا آغاز رواں برس فروری کے آخر میں لاہور سے ہوا جہاں ایک 18 سالہ مسیحی نوجوان کے خلاف توہینِ رسالت کا مقدمہ درج ہونے پر شاہدرہ ٹاؤن میں واقع دھیڑ نامی محلے سے 150 کے قریب خاندانوں کو گھر چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ انھی دنوں کے آس پاس صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد کے ایک علاقے الٰہی آباد میں ایک شکایت پر ایک خاتون سمیت چھ مسیحی افراد پر توہینِ رسالت کا مقدمہ درج کیا گیا۔ کشیدہ حالات کے پیشِ نظر اس علاقے سے بھی کئی مسیحی خاندانوں کو گھر چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔
رواں ماہ کے اوائل میں سیالکوٹ کے ایک گاؤں چک 5/77 آر میں چند مسلح افراد نے ایک گرجا گھر میں موجود لوگوں پر حملہ کیا جس میں خواتین سمیت سات افراد زخمی ہوئے۔ مقامی مسیحی افراد کے مطابق حملہ کرنے والے زمین پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔
یہاں رہنے والے 40 سے زیادہ مسیحی گھرانوں کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں میں شامل افراد کی جانب سے انھیں بدترین نتائج کی دھمکیاں مل رہیں ہیں جبکہ پولیس بھی انھیں صلح صفائی کا مشورہ دے رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا تو انھیں مجبوراٌ علاقہ چھوڑنا پڑے گا۔
ان تمام واقعات میں جو قدر مشرک ہے وہ یہ کہ خصوصاٌ توہینِ رسالت کے مقدمات میں الزام ایک شخص یا افراد کے ایک گروہ پر عائد ہوا تاہم اس کے نتیجے میں درجنوں خاندانوں کو جان بچانے کے لیے اپنے گھر چھوڑنے پڑے۔ ایسا کب اور کیوں ہوتا ہے؟ شکریہ بی بی سی اردو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here