کرکٹ آسٹریلیا کی پسند کا قربانی کا بکرا‘

0
668

ہمارا آج کا موضوع یہ نہیں بلکہ ہم بات کر رہے ہیں کرکٹ کی دنیا کو ہلا کر رکھ دینے والے سکینڈل کی جو ٹوئٹر پر ‘سینڈ پیپر گیٹ’ کے عنوان سے ٹرینڈ کر رہا ہے۔
‘سینڈ پیپر گیٹ’
بال ٹیمپرنگ سکینڈل میں ملوث آسٹریلیا کی قومی کرکٹ ٹیم کے معطل کپتان سٹیو سمتھ نے ایک پریس کانفرنس میں روتے ہوئے معافی مانگی جس کے بعد سے بال ٹیمپرنگ کا یہ سکینڈل پھر سے موضوعِ بحث ہے۔
بال ٹیمپرنگ ہوتی کیسے ہے؟
یاد رہے کہ کرکٹ آسٹریلیا نے سٹیو سمتھ اور نائب کپتان ڈیوڈ وارنر پر ایک ایک سال کی پابندی عائد کر دی تھی جو جنوبی افریقہ کے دورے کے دوران کیپ ٹاؤن میں تیسرے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے دوران پیش آنے والے واقعے کے بعد لگائی گئی۔
جہاں لوگ ان کرکٹروں کے اس اقدام پر تنقید کر رہے ہیں وہیں بہت سے ایسے ہیں جو اب اس بات کو ختم کر کے آگے بڑھنے کی بات بھی کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے لوگ ٹیم کے باقی اراکین اور کوچ کو سزا نہ دیے جانے پر بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔ عبدالغفار نے لکھا ‘سخت سزا؟ کون سی سخت سزا؟ کپتان اور نائب کپتان نے بال ٹیمپرنگ کی منصوبہ بندی کی اور نوجوانوں کو اس غلط بات میں ملوث کیا۔ کرکٹ آسٹریلیا کا زبردست اقدام۔ اچھی مثال قائم کی ہے۔’
آکاش چوپڑا نے سوال کیا کہ ‘تین بیٹسمینوں نے بال کو ٹیمپر کرنے کا منصوبہ بنایا تاکہ بالروں کی مدد ہو سکے۔ اور بالروں کو اس بارے میں کچھ نہیں پتا تھا؟ مجھے یہ سمجھنے کے کچھ وقت لگے گا۔’
دی لیفٹ بیک نام کے ٹوئٹر اکاؤنٹ نے لکھا ‘اگر میں ایک کوچ ہوں اور میں سٹیڈیم کی بڑی سکرین پر ایک ری پلے دیکھتا ہوں اپنی ٹیم کو دھوکہ دیتے ہوئے اور مجھے کچھ نہیں پتا کیا ہو رہا ہے تو میں بالکل فضول بات کر رہا ہوں گا۔ میں اگر ہوتا تو کھڑا ہوتا، بے چینی سے اِدھر سے اُدھر جاتا اور شاید ڈریسنگ روم میں چیزوں کو ٹھُڈے مار رہا ہوتا۔ کیا یہ چہرہ ایک ایسے بندے کا ہے جسے کچھ معلوم نہ ہو؟’
میٹ پرائر نے لکھا ‘میں یقین نہیں کر سکتا کہ صرف تین کھلاڑیوں کو پتا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ بولر، کوچ اور بولنگ کوچ ان بحثوں میں ملوث نہیں تھے کہ بال کو کیسے آگے بڑھائیں۔ چاہے وہ دھوکے کے ذریعے ہو یا نہیں۔’
معروف اینکر پیئرس مورگن نے لکھا ‘تو ہمیں یہ یقین کرنا چاہیے کہ آسٹریلیا کے کسی بھی بولر کو کچھ نہیں پتا تھا کہ بال کے ساتھ جان بوجھ کر چھڑ چھاڑ ان کے ساتھیوں کی جانب سے کی جا رہی ہے تاکہ ان کی بالنگ بہتر کرنے میں مدد کی جا سکے؟’
اور یہ سوال کرنے والوں میں مظہر ارشد، جیمز ٹیلر بھی شامل تھے جبکہ زینب عباس سمیت بہت سوں نے کوچ کو سزا نہ دینے پر سوالات کیے۔
سمیر الانہ نے کہا کہ ‘میری نظر میں وارنر اور سمتھ کی عزت تو کم ہوئی ہے مگر لیمین اور ساری بولنگ لائن اپ نے جس طرح اپنے آپ کو چھپایا ہے اور اپنی غلطی تسلیم نہیں کی اس سے مجھے شدید نفرت ہو رہی ہے۔ یہی بات کرکٹ آسٹریلیا کی بھی ہے یہ کوئی مرضی کے قربانی کا بکرا بنانے کی پالیسی ہے۔’
پیٹ سمکوکس نے لکھا ‘اگر کوچ شامل ہے یا نہیں مگر کوچ اپنا کلچر اور روایات نافذ کرتا ہے اپنی ٹیم میں اور ان کے زیرِ اثر اس قسم کی روایات سامنے آئیں اور کلچر بہت برا تھا۔ لیہمین کو جانا ہو گا۔ یہ بالکل قابلِ قبول نہیں کسی بھی سطح پر۔’
اس ہفتے کی تصاویر شکریہ بی بی سی اردو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here