یو ٹیوب پر حملہ آور کون تھیں؟

0
790

نسیم ادغام کیلیفورنیا کے علاقے سان تیاگو میں رہتی تھیں۔
پولیس نے ان کے بارے میں تھوڑی سی معلومات دی ہیں تاہم امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ وہ وہ اپنا ایک چینل اور ویب سائٹ چلاتی تھیں اور یو ٹیوب پر مختلف موضوعات پر ویڈیوز پوسٹ کرتی تھیں۔
یوٹیوب نے اس وقعے کے بعد نسیم کا اکاؤنٹ بند کر دیا ہے اس کے علاوہ ان کے انسٹاگرام اور فس بک پر موجود اکاؤنٹس بھی ہٹا دیے گئے ہیں۔
اپنے ذاتی اکاؤنٹ پر انھوں نے یو ٹیوب پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ ان کی ویڈیوز کو صارفین تک پہنچنے کی راہ کی رکاوٹ ڈال رہی ہے۔
انھوں نے کہا تھا کہ یہاں مساوی مواقع نہیں اگر یو ٹیوب چاہے گی کہ آپ کا چینل بڑھے تو وہ ترقی کرے گا۔
اس سے قبل میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ جس شخص کو گولی لگی وہ ان کا دوست تھا لیکن بعد میں پولیس نے کہا کہ اس کے واضح ثبوت نہیں کہ نسیم مقتولین کو جانتی تھیں۔
ماضی میں اس طرح کے واقعات مردوں کی جانب سے کیے گئے ہیں۔ ایف بی آئی کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2013 سے 2016 کے درمیان سرعام قتل کیے جانے والے 160 واقعات میں سے فقط چھ خواتین کی جانب سے کیے گئے۔
صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کی کہ انھیں اس واقعے کے بارے میں بتایا گیا ہے۔
یہ واقعہ دن کے وقت پیش آیا۔ مشتبہ حملہ آور نے سان برنو میں موجود دفتر میں ڈائنگ ہال میں داخل ہوئی اور ہینڈ گن سے فائر کیا۔
ٹی وی پر دکھائی دینے والی فوٹیج میں دفتر کے ملازمین کو ہاتھ اٹھا کر باہر نکلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ دوپہر کے وقت پیش آیا ہے اور ان کے اہلکار جائے وقوع پر پونے بارہ بجکر 48 منٹ پر کے قریب پہنچے تھے اور جائے وقوع پر پہنچنے والے اہلکاروں کو افراتفری نظر آئی۔
ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کے دفاتر کے سامنے انھیں ایک شخص زخمی حالت میں ملا اور چند ہی منٹوں کے بعد افسران کو ایک خاتون ملی جس نے بظاہر خود کو گولی مار لی تھی۔
دیگر دو متاثرہ خواتین ایک قریبی کاروباری مرکز میں ملیں پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے پاس ایک پستول تھا۔
ایک قریبی فاسٹ فوڈ ریستوراں کے ایک ملازم نے مقامی ٹی وی چینل فوکس نیوز کو بتایا کہ اس نے ایک زخمی خاتون کو ابتدائی طبی امداد دی تھی اور ایک بنجی کورڈ کو ان کی ٹانگ پر باندھ کر خون کو بہنے سے روکا۔
یوٹیوب کے صدر دفتر میں 1700 لوگ کام کرتے ہیں اور کمپنی کی ملکیت گوگل کے پاس ہے۔
یوٹیوب کے بہت سے ملازموں نے حملے کے بارے میں ٹویٹ کیا۔ پروڈکٹ مینیجر ٹاڈ شرمین نے لکھا کہ گولیاں چلنے کے ساتھ ہی عمارت میں افراتفری پھیل گئی۔
انھوں نے لکھا: ‘ہم لوگ ایک میٹنگ میں تھے کہ لوگوں کے دوڑنے کی آواز آئی اور فرش پر دھم دھم کی آواز تھی۔ پہلے تو ہم یہ سمجھے کہ یہ کوئی زلزلہ ہے۔’شکریہ۔ بی بی سی اردو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here