’جنس تبدیل نہ کرنا میرے لیے موت کے برابر تھا‘

0
231
’جنس تبدیل نہ کرنا میرے لیے موت کے برابر تھا‘
’جنس تبدیل نہ کرنا میرے لیے موت کے برابر تھا‘

ایلن پرائمری سکول کی پہلی لڑکی تھی جو پہلی بار برطانیہ میں جنسی تبدیلی کے مرحلے سے گزری تھیں لیکن ان کی کہانی اپنے جنسی رجحان کی مناسبت سے موزوں لباس پہننے سے کہیں زیادہ ہے۔

ان کے لیے جنس کی تبدیلی زندگی اور موت کا سوال تھا۔ یہ ان کی اپنی حقیقی شناخت تلاش کرنے کی کوشش تھی اور وہ جو محسوس کرتی تھیں اسے پورا ہونے دینے کی اجازت تھی۔

٭ جنس تبدیل کرنے پر انڈین نیوی اہلکار نوکری سے فارغ

٭ برطانیہ میں ہم جنس مردوں کی سزائیں معاف

ایلن کی کہانیاں انھی کی زبانی

مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرے آس پاس کے لوگ یہ سوچتے ہوں گے کہ حساس اور دلچسپ نوجوان ہے جو ہم جنس بن رہا ہے۔ ایک عرصے تک میرا بھی ایسا ہی خیال تھی۔

سکول وہ جگہ تھی جہاں میرے لیے زندگی انتہائی مشکل ہو گئی کیونکہ میں گھر میں ویسی رہ سکتی تھی جیسی میں ہوں۔

میں جیسا لباس پہننا چاہتی، پہنتی تھی اور میرے خاندان کو اس سے کوئی پریشانی نہیں تھی۔

سکول میں تنہا ہوگئی

ایلن

دوسروں نے اس فرق پر توجہ دینا شروع کردیا اور اس پر بات کرنے لگے۔

سکول میں میری شناخت ایک عجیب و غریب ہم جنس پرست لڑکے کی بن گئی تھی۔

شاید اندرونی طور پر میں جانتی تھی کہ میں ہم جنس پرست نہیں لیکن پانچ سال کی عمر میں آپ یہ نہیں جانتے کہ ان احساسات کو کیسے ظاہر کریں۔

مجھے مسلسل چھیڑا جاتا اور لوگ یہ کہتے تھے کہ میں ان سے مختلف ہوں اس لیے مجھے علیحدہ ہونا چاہیے۔

مجھے ایسا محسوس ہوتا کہ میرے جسم میں کچھ ایسا ہے جو درست نہیں اور دماغ میں کچھ ایسا ہے کہ دونوں میں میل نہیں۔ یہ سوچتی کہ میں کون ہوں اور یہ جاننے کے لیے میں کیا کروں؟

مجھے احساس ہوا کہ میرے لباس اور میری طرز زندگی مختلف۔ مجھے یہ احساس لبھاتا تھا کہ میں جب سکول سے گھر آؤں گی تو میرے پاس لڑکیوں کے لباس سے پر ایک الماری ہوگی اور میں سکول سے آکر وہ لباس پہن کر گھومنے جاؤں گی۔

پھر انھیں جلد ہی احساس ہو گيا کہ لڑکیوں کے کپڑے ان کے لیے محض بچوں کے کھیل تھے اس کے ذریعے وہ کچھ اور ہونا چاہتی تھی۔

خودکشی کی کو

میں اصل ایلن گھر میں تھی لیکن گھر سے باہر میں ایک ناراض اور غصیلا لڑکا تھی جسے کبھی اچھا محسوس نہیں ہوتا۔

مجھے یاد ہے کہ میں کس طرح اپنی ماں سے کہتی کہ میں بڑی ہو کر کیا بنوں گی؟’ اور میری ماں جواب دیتیں ’جو تم بننا چاہتی ہو بن سکتی ہو۔‘

یہ سن کر میرا چہرہ چمک جاتا اور میں کہتی ’کیا میں ایک لڑکی بن سکتی ہوں؟ ہمیشہ کے لیے؟‘

اور میری ماں نے کہا: ’نہیں، نہیں، بیوقوفی کی باتیں مت کرو، اسے بھول جاؤ۔‘

میں بہت پریشان ہو گئی تھی، میں گھر سے باہر نہیں جانا چاہتی، مجھے چھوٹی چھوٹی باتوں سے ڈر لگتا تھا جسے میں ظاہر نہیں کر پاتی۔

میں نے سات سال کی عمر میں چاقو سے خوکشی کی کوشش کی اور خود کو نقصان پہنچانے والی تھی۔

میں الجھن میں تھی، میں سب کچھ ختم کرنا چاہتی تھی۔ میرا خیال تھا یہ سب کے لیے مصیبت بننے سے زیادہ آسان ہے۔

والدین نے بچایا

ایلن

حالات کے اس قدر خراب ہونے کے بعد ایلن کے والدین کو احساس ہوا کہ انھیں اپنے بیٹے کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔ انھوں نے معلومات حاصل کی اور پتہ چلا کہ اسے صنفی ڈیسفوریا کہا جاتا ہے۔

انھوں نے مجھے بیٹھا کر بتایا کہ انھیں کیا پتہ چلا ہے۔ میں یہ سن کر دنگ رہ گئی۔ یہ بالکل وہی تھا جو میں نے اپنے اندر محسوس کرتی تھی لیکن میں کبھی بھی صحیح طریقے سے نہیں بتا پائی۔

انھوں نے اس کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کی۔ انھیں مرمیڈ نامی ایک تنظیم ملی۔ یہ دس سال پہلے کی بات ہے جو کہ میرے لیے نئی زندگی کی نوید تھی۔

اگر میں پہلے کی طرح جی رہی ہوتی تو آج میں یہاں نہیں ہوتی کیونکہ میں ایک جھوٹی زندگی جی رہی تھی جس کا برقرار رکھنا ناممکن تھا۔

ایلن

میرے خاندان نے میری جنس کو تبدیل کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کیا جو میرے اور میرے خاندان کے لیے بہت مشکل فیصلہ تھا۔ وہ میری حفاظت اور خوشی کے لیے فکر مند تھے۔

میرے والدین نے سکول میں بات کی۔ اس وقت میں پرائمری میں تھی اور 11 سال کی تھی۔

میرے سکول کے لیے یہ بالکل نئی چیز تھی۔ انھوں نے مجھے ایک ہفتے کی چھٹی دے دی۔

میں خوفزدہ تھی۔ میرے اہل خانہ نے کہا کہ ایسا کرنے کے لیے مجھ پر کوئی دباؤ نہیں ہے لیکن میں نے کہا کہ ’میں یہ کرنا چاہتی ہوں۔‘

پرائمری سکول کے آخری مہینے میں، میں ایک لڑکی کے طور پر سکول گئی۔

جب یہ معاملہ میڈیا میں پہنچا تو میں برطانیہ میں سب سے کم عمر کی ’ٹرانس سیکسوئل‘ بن گئی۔ ہم میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئے۔

میں نے اپنا نام قانونی طور پر تبدیل کرلیا اور ایک لڑکی کے طور پر زندگی شروع کی۔

#Source by BBC URDU

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here