جیل والوں کو کیسے پتا چلا کہ کوئی آرہا ہے نواز شریف

0
646


سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل میں تیاریاں پہلے ہی شروع کر دی گئیں، جیل والوں کو کیسے پتا چلا کہ کوئی آ رہا ہے؟
سابق وزیراعظم نواز شریف نےاحتساب عدالت میں پیشی کے موقع پرکمرہ عدالت میں صحافیوں سےغیررسمی گفتگو کی ۔دوران گفتگو صحافی نے نواز شریف سے سوال کیا کہ کسی خاص مہمان کی آمد کے لئےاڈیالہ جیل کی صفائی کی خبریں چل رہی ہیں؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ اڈیالہ والوں کو کیسے پتہ چلا کہ کوئی آرہا ہے۔صحافی نے سوال کیا کہ آپ کے دائیں بائیں بھی وہی لوگ ہوتے ہیں جو وفاداریاں تبدیل کرتے رہتےہیں جس پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ میرے دائیں بائیں وہ لوگ نہیں بلکہ کمیٹڈ لوگ ہوتے ہیں،ہمارے ساتھ اس وقت وہ لوگ موجود ہیں جو نسلوں سے مسلم لیگی ہیں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ نگراں حکومت میں نیب قوانین کو غیر مؤثر کرنے سے متعلق وزیراعظم سے بات ہوئی ہے، چاہتے ہیں انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواوں پر نیب کا دباؤ نہیں ہونا چاہیے۔
صحافی کے سوال ‘چوہدری نثار کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں، قوم جاننا چاہتی ہے’ پر نواز شریف نے کہا کہ ان کے حوالے سے قوم سب جانتی ہے اور پاکستانی قوم مجھ سے جانے بغیر سب کچھ جانتی ہے۔
بعد ازاں احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ’ واجد کو عدالت میں کہنا پڑا کہ نوازشریف کی تنخواہ کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں، یعنی جس الزام کے تحت مجھے نکالا اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملا جب وہ ثبوت نہیں تو پھر یہ کیس ہے کیا؟ جو حقائق ہمارے حق میں جاتے تھے وہ بڑی عیاری سے چھپائے گئے لیکن پھر بھی جے آئی ٹی ناکام ہوگئی‘۔
انہوں نے کہا کہ ’کہتا آرہا ہوں یہ فراڈ ہے اور ہمارے خلاف انتقام ہے، میں اللہ کے سوا کسی کے آگے نہیں جھکتا، کروڑوں عوام مجھ سے پیار کرتے ہیں اس لیے مجھے یہ برداشت نہیں کرتے‘۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھاکہ ’واٹس ایپ پر جے آئی ٹی کے جو 6 ہیرے تلاش کیے گئے ان میں منگی کے علاوہ باقی 5 میں سے 3 ہمارے سیاسی طور پر بدترین مخالف ہیں، ان کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے، پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈرز بھی ان کے قریبی عزیز ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’جے آئی ٹی میں ایک آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کا ممبر تھا، میرا کیس کوئی دہشت گردی کا کیس نہیں تھا، میں وفاق کے خلاف کوئی کام نہیں کررہا تھا، آئی ایس آئی اور ایم آئی کو بیچ میں ڈالنے کی کیا ضرورت تھی، یہ بہت اہم سوال ہے جو پوچھے جانا چاہیے، ان لوگوں کو اس طرح کے کیس میں کیوں ڈالا گیا‘۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ ’لندن میں انویسٹی گیشن کے لیے جو کمپنی چنی گئی وہ واجد ضیاء کا فرسٹ کزن تھا، واجد ضیاء کو جواب دینا پڑے گا اس کزن کو کتنے پیسے دیئے، یہ پیسےقومی خزانے سے گئے اور یہ قوم کا پیسہ تھا، آج نہیں تو کل واجد ضیاء کو اس کا جواب دینا پڑے گا، قوم بھی اس کا احتساب کرے گی‘۔
انہوں نے کہا کہ ’میرے کیس میں چن چن کر دور دراز سے لوگوں کو لایا گیا اور ان سے تفتیش کرائی، اس کا مقصد من پسند رپورٹ حاصل کرنا تھا تاکہ مقدمے کے حقائق کچھ بھی ہوں، فیصلہ ایسا کیا جائے جس سے نوازشریف کے خلاف سینوں میں انتقام کی خواہش کو پورا کیا جائے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’آج یہ رد عمل میرا نہیں قوم کا ہے اور آئندہ آنے والے وقت میں رد عمل بڑے گا‘۔بشکریہ روزنامہ جنگ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here