پہلے متوقع پاکستانی سکھ کرکٹر مہیندر پال

0
627


انٹرویو: پاکستان کرکٹ ٹیم کا مضبوط پوائنٹ ہمیشہ ہی بولنگ رہی ہے۔ فاسٹ بولنگ میں ایسے ایسے ہیرے ٹیم میں شامل رہے، جنہوں نے اپنی گیند بازی سے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ اس کی مثالیں فضل محمود سے حسن علی تک بکھیری پڑی ہیں۔

ایک دور عمران خان،عبدالقادر اور سرفراز نواز کا تھا،دوسرا دور وسیم اکرم، وقار یونس اور عاقب جاوید کا تھا،اس کے بعد شعیب اختر، ثقلین مشتاق، عبدالرزاق، اظہر علی بیٹسمینوں کے لئے وبال جان بنے رہے،تو وہ وقت بھی آیا جب محمد عامر، محمد آصف اور سعید اجمل نے بیٹسمینوں کو وکٹ کھو دینے کے ڈر میں مبتلا رکھا اور آج کل عمر گل، حسن علی، جنید خان،محمد عامر اور شاداب خان اپنی گیند بازی سے کرکٹ کےمیدانوں میں دھوم مچارہے ہیں۔اب قومی امکان ہے کہ جلد ہی قومی کرکٹ کے افق پر ایک اور فاسٹ بولر بھی جگمگائے گا جس کا نام ہے ’مہیندر پال سنگھ‘، جو قومی کرکٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے تو پہلے ’پاکستانی سکھ کرکٹر ‘ہوں گے۔ہم نے ان سے گفتگو کی مہیندر پال سے گفتگو کی ،اس موقع پر ان کا انداز بیاں جوش وعزم سےبھرپور رہا۔وہ اپنی باتوں میں اب تک کی کارکردگی میں مطمئن اور ’مزید کچھ کرنا ہے‘ کی بے چینی کا حسین امتزاج لگے۔

پاکستان میں ’گریڈ ٹو ‘لیول پر کرکٹ کھیلے والے مہیندرپال سنگھ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فارمیسی کے طالب علم ہیں۔وہ گرمیوں کےموسم میں بھی بھرپور پریکٹس کرتے ہیں۔ ان کا معمول ہے کہ روز صبح 6 بجے اٹھتے ہیں،ڈیڑھ تک ورزش کرتے ہیں، جس میں 40 منٹ تو صرف رننگ کو دیتے ہیں۔ پھر یونیورسٹی جاتے ہیں، ساڑھے 3 بجے سے ساڑھے 7 بجے یعنی 4 گھنٹوں تک کرکٹ کی تربیت پر توجہ دیتےہیں اور پھر گھر واپسی پر پڑھائی کو بھرپور وقت دیتےہیں۔

نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے ماحول کو بہترین قرار دینے والے مہیندر پال کہتےہیں کہ وہاں علی ضیا اور مدثر نذر ہر کھلاڑی پر پھر پور توجہ دیتے ہیں، وہاں فٹنس اور ہر ایک کے کھیل میں نکھار لانے پر خوب کام کیا جاتا ہے، سوئنگ کو اپنا ہتھیار سمجھنے والے فاسٹ بولر اپنی تربیت میں سابق فاسٹ بولر محمد اکرم اور عاقب جاویدکے انتہائی مثبت کردار کو سراہتے ہیں، ساتھ ہی وقار یونس کو اپنا آل ٹائم فیوریٹ بولر کہتے ہیں اور ان کے انداز کی جم کر تعریف کرتے ہیں اور پرامید ہیں کہ میری سوئنگ بولنگ بھی دنیا میں ایک نام پیدا کرے گی۔ مہیندر پال سنگھ اس بات پریقین رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ ضرور بنیں گے لیکن وہ تب ہی ممکن ہوگا جب میری کارکردگی کا معیار ٹیم میں اس وقت موجود کھلاڑیوں سے بہتر ہوگا،اس کیلئے تیاری کررہا ہوں،آنے والے سیزن میں عمدہ پرفارمنس دکھائوں گا،2016ء میں ایمرجنگ کرکٹر بنا،کئی بین الاقوامی اداروں نے انٹرویوز کئے جس طرح وقار یونس کو ’بھورے والا ایکسپریس‘ اور شعیب اختر کو’ راولپنڈی ایکسپریس ‘کہتےہیں،ویسے ہی ایک بھارتی اخبار نے مجھے ’خالصہ ایکسپریس ‘ لکھا،دنیا بھر میں سکھ کرکٹ کھیلتے ہیں لیکن میں پہلا سکھ فاسٹ بولر ہوں جس کی اسپیڈ 138 سے 140 کے درمیان رہتی ہے۔

فاسٹ بولر نے موجودہ قومی ٹیم میں حسن علی کی بولنگ اور پرفارمنس کو متاثرکن قرار دیا اور ویرات کوہلی کو بہترین بیٹسمین سمجھتے ہیں۔ اپنے پہلے پاکستانی سکھ کرکٹر ہونے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ مجھ سے پہلے بھی دو سکھ کرکٹ کھیلتے تھے لیکن پتا نہیں انہیں مواقع نہیں ملے یا انہوں نے محنت نہیں کی، بہرحال وہ آگے نہیں آسکے لیکن اس وقت میں واحد سکھ کرکٹر ہوں،یہی وجہ ہے کہ مجھے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بھرپور فیور ملتی ہے اور وہاں بھرپور ٹریننگ کرتا ہوں قومی ٹیم میں شمولیت سے پہلے ہی میڈیا پر خوب ساری شہرت مل جانے کے سوال پر مہیندر پال سنگھ نے کہا کہ ہاں ایسا ہے ،مجھ میڈیا اور چاہنےوالوں نے محبت دی ،سابق اور موجودہ کرکٹرز نے تربیت میں معاونت بھی دی،یہ سارا عمل آپ کو جہاں اعتماد دیتا ہے ،وہیں آپ کی ذمہ داری بھی بڑھا دیتا ہےکہ مجھے خود کو منوانا ہے،معیار پر پورا بھی اترنا ہےاور جو کچھ مثبت میرے بارے میں کہا جارہا ہے ،اسے درست ثابت کرنا ۔شکریہ روزنامہ جنگ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here