قرضے واپس نہ کرنے والوں کے اثاثے ضبط ہوں گے چیف جسٹس

0
630


چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ غیر قانونی قرض معاف کرانے والوں سے انہیں وصول کریں گے، سیاسی بنیادوں پر لیے گئے قرضے واپس نہ کرنے والوں کے اثاثے ضبط کرلیں گے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے قرضہ معافی پر ازخودنوٹس کیس کی سماعت کی ۔دوران سماعت نیشنل بینک اور نجی بینک کے وکیل بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 222مشکوک مقدمات ہیں ،یہ مقدمات پرانےہوگئےہیں اسی لئےانہیں کھول رہے ہیں۔ اس موقع پر نجی بینک کے وکیل نے بتایا کہ 54ارب روپے کے قرضے معاف ہوئے ہیں اور بینک رقم کی واپسی میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
کیس کی سماعت میں بیرسٹرظفر اللہ نے بتایا کہ محمدخان جونیجو، یوسف رضا گیلانی، بے نظیر بھٹو، نواز شریف اورچوہدری برادران نےبھی قرض لے کر معاف کرائے ہیں ۔
نیشنل بینک کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بینک کے قرضے معاف کروانے کی تحقیقات کے لئے کمیشن تشکیل دیا تھا،تاہم اسٹیٹ بینک کا سرکلر جاری ہونے کے بعد بینک کے قرضہ جات معاف کئے گئے، عدالت جسٹس جمشید کی رپورٹ پر فیصلہ کرے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سیاسی بنیادوں پر معاف قرضے واپس نکلوائیں گے، اگر قرضے واپس نہیں کیے تو مقروضوں کے صنعتی یونٹس ضبط کرلیں گے، رقم نہیں تو اثاثہ ریکور کرلیں گے۔
انہوں نے ہدایت دی کہ ایک ہفتے میں قرض معافی کی سمری بنا کر دیں، ابھی تو یہ دیکھنا ہے اس کیس کو چلانا کیسے ہے، 2007 سے یہ معاملہ زیرالتواء ہے۔بشکریہ روزنامہ جنگ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here