پاکستان کے پہلے نابینا جج کون ؟

0
638

ایک تاریخ رقم ہوئی۔ یوسف سلیم جنہیں پہلے ترک کردیا گیا تھا، دوبارہ غور کے بعد ان کی سول جج کی حیثیت سے تعیناتی کی سفارش کردی گئی ہے۔ اس طرح وہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے نابینا جج ہوں گے۔ پنجاب یونیورسٹی کے ایل ایل بی (آنرز) پروگرام میں گولڈ میڈلسٹ یوسف سلیم نے عدلیہ کے تحریری امتحان میں ساڑھے چھ ہزار امیدواروں میں اول پوزیشن حاصل کی۔ ان میں 21امیدوار انٹرویوز کے لئے چنے گئے،جن میں یوسف سلیم بھی شامل تھے، لیکن نابینا ہونے کی وجہ سے انہیں انٹرویو کا اہل تصور نہیں کیا گیا۔ 22اپریل 2018کو اس حوالے سے دی نیوز کی رپورٹ کا چیف جسٹس آف پاکستان نے ازخود نوٹس لیا۔ انہوں نے قرار دیا کہ نابینا ہونے کے باوجود کوئی بھی شخص جج کا منصب سنبھال سکتا ہے بشرطیکہ وہ اہلیت کے مطلوبہ معیار پر پورا اترتا اور تمام تر تقاضے پورے کرتا ہو۔ انہوں نے لاہور ہائی کورٹ اور متعلقہ سلیکشن کمیشن کو یہ معاملہ حوالے کرتے ہوئے کیس پر ازسرنو غور کی ہدایت کی۔یوسف سلیم کی دعائیں بالآخر ہفتہ کو قبول ہوئیں۔ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے انہیں موصول خط میں آگاہ کیا گیا کہ بھرتیوں کے لئے ایگزامینیشن کمیٹی نے انہیں سول جج/ مجسٹریٹ مقرر کرنے کی سفارش کی ہے۔ یوسف سلیم نے دی نیوز سے گفتگو میں صورتحال کا نوٹس لینے پر چیف جسٹس آف پاکستان ، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور سلیکشن کمیٹی کا شکریہ ادا کیا۔ وہ پاکستان کے پہلے نابینا جج ہونے جارہے ہیں جبکہ دنیا میں ایسی نظیریں موجود ہیں۔ جسٹس زکریا محمد یعقوب افریقا کی آئینی عدالت کے 1998سے 2013تک جج رہے، رچرڈ کانوے کیسی نیویارک کے جنوبی ڈسٹرکٹ، جان لیفرٹی برطانیہ میں اسنیئرس بروک کرائون کورٹ، رچرڈ ٹائٹل مین میسوری امریکا، رچرڈ برنسٹائن مشی گن سپریم کورٹ امریکا اور چکروردی تامل ناڈو بھارت میں نابینا جج رہے۔ ایک چارچرڈ اکائونٹینٹ کے بیٹے یوسف سلیم پیدائشی نابینا ہیں ان کی چار میں سے دو بہنیں بھی نابینا ہیں، لیکن انہوں نے اپنی معذوری کو قسمت کا لکھا تسلیم نہیں کیا بلکہ خداداد صلاحیتوں کو ثابت کیا اور منوایا۔ ان کی بہن صائمہ سلیم 2007میں سی ایس ایس کرنے والی ملک کی پہلی نابینا خاتون ہیں، وہ کینارڈ کالج سے انگریزی میں گولڈ میڈلسٹ ہیں۔ انہوں نے چھٹی پوزیشن حاصل کی تھی۔ انہوں نے فارن سروس میں خدمات کو ترجیح دی۔ وہ جنیوا اور نیویارک میں پاکستان کے اقوام متحدہ مشن میں تعینات رہیں۔ اس وقت وہ وزیراعظم سیکرٹری میں ڈپٹی سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ یوسف سلیم نے گو کہ اپنی بینائی کھودی ہے لیکن اپنے خوابوں پر ان کی نظر بدستور قائم ہے۔ وہ چیف جسٹس آف پاکستان بننا چاہتے ہیں بشکریہ روزنامہ جنگ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here